ارضِ بلال — Page 236
ارض بلال۔میری یادیں پھر چند گھنٹے بعد اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کو بیٹے سے نوازا۔اس طرح ہماری رات اسی تگ و دو میں گزرگئی۔اب تو وہ لڑ کا خاصا بڑا ہو چکا ہے اور آج تک گاؤں والوں کو وہ واقعہ یاد ہے اور اکثر اس کا ذکر بڑے اچھے الفاظ میں کرتے ہیں۔مارگزیدہ کی بے بسی ایک دفعہ خاکسار اور استاذ احمد لی صاحب سینیگال کے ایک علاقہ کرما جبل میں دورہ پر تھے۔دن بھر تو مختلف جماعتوں میں تبلیغی و تربیتی پروگرامز کرتے رہے۔شب بسری حسب معمول مشکل امر تھا۔احمد لی صاحب نے کہا کرما جبل سے سات آٹھ میل دور ایک گاؤں ہے وہاں پر چند احمدی گھرانے ہیں ، وہاں رات گزار لیں گے۔ان دنوں برسات کا موسم تھا ہر طرف باجرے کی فصلیں تھیں۔راستے کچے اور جا بجا برساتی پانی کے باعث پانی کھڑا تھا۔کئی بار گاڑی کیچڑ میں پھنستی پھنستی بچی۔رات کی تاریکی میں بڑی مشکل سے اس گاؤں میں پہنچے۔جس احمدی بھائی کے پاس ہم نے جانا تھا، اس کا نام احمد باہ تھا۔اس کے ہاں پہنچے ، علیک سلیک ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس بے چارے کو تو آج سانپ نے کاٹ لیا ہے اور وہ کمرے میں لیٹا ہوا ہے۔ہم لوگ اس کے پاس پہنچے، میں نے دیکھا کہ سخت پریشانی اور خوف کی حالت میں ہے۔میں نے ان کے افراد خانہ سے پوچھا کہ آپ اسے کر ما جبل اسپتال کیوں لے کر نہیں گئے۔انہوں نے اپنی مالی بے بسی کے بارے میں بتایا۔میں نے احمد لی صاحب کو کہا اسے تیار کریں اور ہم اسے ابھی اپنے ساتھ کر ما جبل لے کر جاتے ہیں۔ہم نے اسے اپنے گاڑی میں بٹھایا اور کرما جبل کو روانہ ہو گئے۔رات بہت تاریک تھی اور جا بجا پانی کھڑا تھا۔خیر اللہ نے فضل کیا ہم لوگ رات گیارہ بجے کے قریب کرما جبل پہنچ گئے۔سیدھے کلینک میں پہنچے۔کلینک بند تھا۔ڈاکٹر صاحب کا ایڈریس پوچھ کر ان کے گھر پہنچے اور انہیں انجکشن لگانے کی درخواست کی۔ڈاکٹر صاحب 236