ارضِ بلال

by Other Authors

Page 233 of 336

ارضِ بلال — Page 233

سجده شکر۔میری یادیں مالی دا کم پانی دینا تے بھر بھر مشکاں پاوے مالک دا کم لانا لاوے یا نہ لاوے ایک دفعہ فرافینی میں سینیگال کے ایک دوست حمد باہ صاحب مجھے ملنے کے لئے تشریف لائے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ سینیگال میں کو لخ سے کافی آگے ایک قصبہ گنگنیا ؤ ہے۔اس سے چند میل آگے چند گھرانوں پر مشتمل ایک فولانی گاؤں ہے۔وہاں پر ایک ان کا عزیز ہے جو جماعت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔میں نے اس سے وعدہ کیا۔انشاء اللہ ضرور اس کے پاس جائیں گے اور اس تک پیغام حق پہنچائیں گے۔اس پر ایک روز میں اور مکرم احمد لی صاحب فرافینی سے ایک گاڑی پر بیٹھے اور کون پہنچے۔وہاں سے ایک اور پرانی سی گاڑی پر بیٹھے اور گنگنیا ؤ کو روانہ ہو گئے۔اب نصف رستہ طے کیا ہوگا کہ گاڑی خراب ہوگئی۔کافی دیر تک وہاں انتظار کیا لیکن گاڑی صحیح نہ ہوسکی۔اس کے بعد ہم دونوں نے اپنے بیگ اٹھائے اور پیدل چل کر سخت گرمی کے موسم میں گنگنیا ؤ پہنچے۔وہاں سے ایک ریڑھے پر بیٹھ کر ہم اس گاؤں میں پہنچے۔اس آدمی کے پاس گئے۔اس کا نام غالباً ماری باہ تھا۔اس سے ملاقات ہوئی وہ تھوڑی سی عربی بھی بول سکتا تھا۔اس نے حسب حالات ہمیں خوش آمدید کہا پھر جماعت کی باتیں شروع ہو گئیں۔رات گئے تک ہم باتیں کرتے رہے۔صبح پھر یہی سلسلہ چلتا رہا۔اب ہم نے واپس بھی آنا تھا۔ماری باہ کہنے لگا آپ کی باتیں اچھی ہیں لیکن میں احمدی نہیں ہوسکتا۔اس پر ہم قدرے مایوس ہو کر واپس آگئے۔پہلے پیدل چل کر گنگناؤ تک آئے۔پھر مختلف گاڑیاں بدلتے واپس فرافینی آگئے۔سارے سفر میں کھانے پینے کی سخت مشکل رہی۔گرمی کا موسم تھا، سواری کا انتظام نہ ہونے کے باعث کافی پریشانی رہی اور پھر ایک آدمی کے لئے اتنی محنت کی تھی اور وہ بھی احمدی نہ ہوا۔ایسی باتیں تو روز کا معمول تھیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔تقریباً بیس سال کے بعد اس علاقہ میں بیعتوں کا سلسلہ چل نکلا۔بہت 233