ارضِ بلال

by Other Authors

Page 224 of 336

ارضِ بلال — Page 224

۔میری یادیں مرید تو ہم ہیں کو لخ کے قریب ایک گاؤں میں ایک نوجوان احمدی ہو گیا۔اس کے گاؤں میں اکثریت مرید فرقہ کی تھی۔یہ لوگ بڑے شدت پسند ہوتے ہیں۔کسی دوسرے کی بات سننا گوارا نہیں کرتے۔اپنے پیر کے خلاف کسی قسم کی بات برداشت نہیں کر سکتے۔حملہ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ان کے عقائد یا ان کے بزرگوں کے معجزات سے آپ انکار کریں تو وہ آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ان کا ایک بہت معروف عقیدہ ہے کہ ان کے فرقہ کے بانی مکرم احمد و با مبا صاحب شیر پر سواری کرتے تھے۔جب احمد و با مبا صاحب کو فرانسیسی فوجیوں نے بغاوت کے الزام میں قید کر کے بذریعہ بحری جہاز گبون بھجوایا اور راستہ میں بحری جہاز میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی تو بامبا صاحب نے کھلے سمندر میں پانی پر مصلی بچھا کر نماز ادا کر لی تھی۔اس نو مبایع بھائی کو میں نے ان کے گاؤں میں ایک تبلیغی میٹنگ کرنے کے لئے کہا۔اس پر وہ قدرے خائف ہو گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے گاؤں والے مرید ہیں اور بڑے متشد دلوگ ہیں۔میں نے اسے کہا، آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ کچھ نہیں ہو گا۔آپ مجھے وہاں نماز مغرب کے بعد مسجد کے قریبی میدان میں لے جائیں۔خیر وہ مان گئے۔نماز مغرب کے بعد ہم لوگ ادھر پہنچ گئے۔احمدی نوجوان نے حاضرین سے میرا تعارف کرایا اور بتایا کہ میں جماعت احمدیہ کا مبلغ ہوں اور اختصار سے جماعت کا تعارف بھی کرایا۔اس پر ان حاضرین میں سے چند ایک نے کہنا شروع کیا کہ ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے ، ہم مرید ہیں۔ہمارے لیے احمد و با مباہی کافی ہیں۔(مرید فرقہ کے لوگ بہت محنتی ہیں، ہر قسم کا کام کر لیتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ غریب ہیں لیکن ان کے جو خلفاء ہیں اور پھر ان کی جو اولادیں ہیں وہ ملک کے امیر ترین طبقہ میں سے ہیں۔حکومت بھی انہی کے اشاروں پر بنتی اور گرتی ہے ) میں نے حاضرین کو بتایا کہ دراصل میں بھی مرید ہوں، کیونکہ مرید تو وہی ہوگا جو احمد و بامبا کی 224