ارضِ بلال

by Other Authors

Page 220 of 336

ارضِ بلال — Page 220

ارض بلال۔میری یادیں ) بتایا کہ ایک عربی استاذ گزشتہ رات جماعت کے خلاف بڑی بدزبانی کرتا رہا ہے۔میں نے اسی روز پروگرام بنایا اور دو دوستوں کے ہمراہ اس گاؤں کو روانہ ہو گیا تا کہ اس استاذ سے بات چیت کی جا سکے۔ہم لوگ جب اس گاؤں میں پہنچے۔تو معلوم ہوا وہ استاذ تو وہاں سے جا چکا ہے۔ہم نے گاؤں کے لوگوں سے کچھ دیر کے لئے بات چیت کی اور انہیں پیغام حق پہنچایا۔اس کے بعد ہم نے واپسی کا رستہ لیا۔جب ہم لوگ ایک گاؤں میں سے گزررہے تھے تو مجھے گاڑی میں موجود ایک دوست نے بتایا کہ کل اس گاؤں میں اس کی ایک عزیز خاتون فوت ہوگئی ہے۔اگر ممکن ہو تو تھوڑی دیر کے لئے تعزیت کر آئیں۔اس پر ہم لوگ فوتگی والے گھر پہنچ گئے۔میرے دوست نے اہل خانہ سے میرا تعارف کرایا۔اس پر ہم نے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی۔کافی سارے احباب یہاں موجود تھے۔اہل خانہ میں سے ایک آدمی نے ایک بزرگ آدمی کے بارے مجھے بتایا کہ یہ قریبی گاؤں کے امام ہیں۔ان سے علیک سلیک ہوئی۔اس کے بعد میں نے انہیں جماعت احمدیہ کے بارے میں بالاختصار بتایا تو انہوں نے بتایا میں تو کافی عرصہ سے احمدی ہوں۔میں نے بڑی حیرانگی سے اسے پوچھا۔وہ کیسے؟ کہنے لگے بہت عرصہ پہلے میں نے جماعت احمدیہ کی ایک کتاب القول الصریح پڑھی تھی جس کی وجہ سے میں جماعت احمدیہ کی صداقت کا قائل ہو چکا ہوں۔لیکن میرا کسی بھی احمدی سے رابطہ نہ تھا اب آپ سے مل کر یہ کی بھی پوری ہوگئی ہے۔الحمد للہ۔اس صورت حال سے جو خوشی ہمیں ہوئی اس کا بیان کرنا ممکن نہیں ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اشاعت کے اسباب پیدا فرماتا ہے۔پھر ان امام صاحب سے ہمارا مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔اس کے بعد ان کے گاؤں میں کئی دفعہ ہم نے اجتماعات اور جلسے بھی کئے۔ان کے گاؤں کا نام ڈانگرے ہے۔اور امام کا نام الحاج محمد سوار ہے۔220