ارضِ بلال

by Other Authors

Page 180 of 336

ارضِ بلال — Page 180

ارض بلال- میری یادیں ) لپیٹ میں نہ آجائیں۔لیکن اب بفضلہ تعالیٰ نے طرز تعلیم اور آگہی کے پیش نظر یہ انسانیت سوز طرز تعلیم آخری دم لے رہا ہے۔لیکن عجیب بات ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ ان ممالک کے اساتذہ کسی انگریز کا نام سننے کے بھی روادار نہ تھے۔لیکن نہ معلوم آج ان علما کو ان یورپین اقوام میں کیا خوبیاں نظر آئیں کہ ان پر جان و دل سے فدا ہو گئے اور اپنی آئندہ نسل کی اعلیٰ روحانی تربیت کے لئے ان کے مقدس ماحول میں لا بسانے کے لئے ہر حیلہ استعمال کر رہے ہیں۔آج افریقن ممالک میں ان پیر صاحبان کی اولادیں اپنے مالی اور سیاسی تعلقات کے زینے طے کر کے یورپ کی سرزمین پر قدم جما چکی ہیں۔قبول احمدیت قبل از میں ایک خواب کے ذریعہ استاذ یوبی باہ کے قبول احمدیت کا واقعہ خوابوں کے باب میں آچکا ہے۔عبادت وریاضت آپ کو نماز با جماعت کے ساتھ عشق کی حد تک تعلق تھا۔شروع زمانہ میں جب آپ اپنے گاؤں میں اکیلے احمدی تھے وہاں سے پیدل چل کر فرافینی آکر نماز باجماعت ادا کرتے اور پھر درس و تدریس کی خدمت بھی بڑی خوش دلی سے سرانجام دیتے۔التزام نماز تہجد آپ با قاعدہ نماز تہجد ادا کرتے۔ایک دفعہ میں نے ان کو سینیگال کے ایک شہر کو لخ میں دورہ پر بھجوایا۔اس دوران انکی رہائش کا انتظام میں نے اپنے ایک غیر از جماعت دوست مسٹر فال کے ہاں کیا۔کچھ عرصہ کے بعد میں سینیگال گیا۔مسٹر فال سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگا۔استاذ میں نے تمہاری جماعت کے بہت سے دوست دیکھے ہیں جن کی میزبانی کا مجھے موقع ملتارہا ہے لیکن یہ مہمان ان سب سے منفرد تھا۔میں نے پوچھا کس طرح کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ یہ آدمی جتنی بھی دیر 180