ارضِ بلال — Page 156
ارض بلال۔میری یادیں اس کو بیٹے سے نوازا ہے جس کا نام اس نے حضرت خلیفہ اول کے نام نامی پر نورالدین رکھا ہے۔ان کے فون کی آمد سے ان کا ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا جو پیش خدمت ہے: سینیگال کے ایک گاؤں ڈوڈام کے اس نوجوان واگان فائی کو ایک احمدی معلم صاحب کے ذریعہ پیغام حق ملاجس پر انہوں نے بیعت کر لی۔اور پھر جب کبھی یہ صاحب ڈا کار آتے تو مشن میں ضرور تشریف لاتے۔پھر اچانک ان سے رابطہ منقطع ہو گیا اور کافی عرصہ تک ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ایک بار ڈا کار میں نو مبائعین کی تربیتی کلاس ہو رہی تھی ، اس میں تشریف لائے۔میں نے ان سے تاخیر کا سبب پوچھا۔اس کے جواب میں انہوں نے سب حاضرین کو یہ واقعہ حلفاً بتایا کہ جب ایک احمدی معلم صاحب نے ہمیں بتایا کہ جس مہدی کی آمد کا ہم سب انتظار کر رہے ہیں وہ تو آچکے ہیں۔اس پر کچھ بنیادی سوال و جواب کے بعد میں نے بیعت کر لی لیکن بعد میں میں نے سوچا کہ ڈا کار میں بھی تو ایک آدمی نے مہدی ہونے کا دعوی کیا ہوا ہے اور اس کے ماننے والی ایک جماعت بھی ہے۔اب میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ ان دونوں مدعیان میں سے اپنے دعوی میں کون صادق ہے۔اس طرح میرے دل میں عجیب کشمکش جاری تھی۔اس کیفیت میں کافی عرصہ گزر گیا۔جس میں میں بہت پریشان رہا۔کوئی بھی فیصلہ کسی ٹھوس اور بین ثبوت کے بغیر میرے لئے ممکن نہ تھا۔اس دوران میں اللہ تعالی سے رہنمائی کا طالب رہا۔پھر پچھلے دنوں میں نے ایک خواب دیکھا کہ جس میں بڑی وضاحت سے مجھے بتایا گیا کہ حضرت مرا غلام احمد علیہ السلام ہی مہدی صادق ہیں۔اس لئے میں آج مشن میں حاضر ہوا ہوں۔اب انشاء اللہ یہ تعلق کبھی بھی ختم نہ ہوگا۔بسم اللہ کے مقام پر احمدیت کا پودا سینیگال کے علاقہ Fatic میں تبلیغی مہمات کا آغاز کیا گیا۔اس علاقہ میں پہلے کوئی احمدی نہ تھے۔آٹھ معلمین کو اس علاقہ میں ایک مقام بسم اللہ پر اتر کر دو دو کے وفود کی صورت میں مشرق ، مغرب، شمال اور جنوب کی طرف تبلیغ کی غرض سے جانے کو کہا گیا۔میں ان دنوں کچھ علیل تھا اس لئے ان کے ساتھ نہ جاسکا۔لیکن معلمین کو بتایا کہ چار روز بعد اسی بسم اللہ کے مقام پر ملاقات ہوگی 156