ارضِ بلال — Page 157
ارض بلال- میری یادیں ) اور پھر حالات کا جائزہ لے کر آئندہ کا پروگرام دیکھیں گے۔اس زمانہ میں سینیگال میں جماعت کی گاڑی نہ تھی۔میں بذریعہ بس مذکورہ سٹاپ پر اترا تو جملہ معلمین ایک اور دوست کے ہمراہ میری طرف آئے ، اور وہ نئے دوست مجھے بڑے احترام سے ملے اور مجھے اپنے گھر میں لے گئے۔انہوں نے میری بڑی اچھی مہمان نوازی کی۔میں نے جب ان سے بات چیت کی تو انہوں نے بتایا کہ ان کا نام ابراہیم ہے اور یہ بھی بتایا کہ کچھ روز قبل میں نے سفر کا پروگرام بنایا کہ کل صبح ڈاکار جاؤں گا۔رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ کچھ خاص مہمان میرے گھر آ رہے ہیں۔صبح میں نے اپنی بیوی کو خواب سنایا اور سفر کا پروگرام ملتوی کر دیا۔ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ معلمین بس سے اتر کر سید ھے اس کے گھر کی طرف آگئے کیونکہ اس کا گھر سڑک کے کنارے پر تھا اس طرح خدا کے فضل سے معلمین نے اپنا پیغام اس کو پہنچایا۔وہ خود بھی احمدی ہو گیا اور پھر اس علاقہ میں احمدیت کو پھیلانے کا اس کے ذریعہ ایک نیا راستہ کھل گیا۔صوبیم میں احمدیت کا پودا بسم اللہ کے علاقہ میں تبلیغی مہم کے دوران جماعت کے معلمین مکرم داؤد باہ اور عمر جالو ایک قریبی گاؤں Sobem میں علی الصبح تبلیغ کی غرض سے گئے۔جو نہی گاؤں کے نمبر دار کے گھر میں داخل ہوئے اور اپنا تعارف کرایا کہ ہم احمدی مبلغ ہیں اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کا پیغام لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں۔نمبر دار صاحب نے کہا، میں تو آپ کا ہی انتظار کر رہا تھا اور بتایا کہ آج صبح کی نماز کے بعد میں مسجد میں لیٹ گیا اور میں نے خواب دیکھا کہ دو آدمی خدا تعالیٰ کا پیغام لے کر میرے گھر آرہے ہیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور اب آپ آگئے ہیں۔اس لئے یہ خواب سچا ہے اور آپ کا پیغام بھی سچا ہے اسی لئے میں احمدیت کا پیغام قبول کرتا ہوں۔ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی جماعت میں داخل ہو گئے۔1988 ء میں اللہ تعالی کے فضل سے گیمبیا مشن کی طرف سے پہلی بار جلسہ سالانہ انگلستان میں مجھے بطورنمائندہ شرکت کی سعادت ملی۔جلسہ کے بعد حضور انور کی اجازت سے پہلی بار اپنے والدین 157