ارضِ بلال — Page 142
۔میری یادیں والدین سے صلح اس دوران ان کی دونوں ماؤں نے جن کا یہ واحد بیٹا تھا، رورو کے اپنا برا حال کر لیا لیکن والد صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے۔بعض عزیزوں نے والدہ کے کہنے پر ان کی تلاش بھی جاری رکھی۔آخران کے والدین کو ان کے بارے میں علم ہو گیا اور ان سے درخواست کی کہ آپ واپس گھر آجائیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ میری یہ شرط ہے کہ کوئی شخص میرے مذہبی معاملات میں دخل نہیں دیگا۔اس پر آپ اپنے گھر واپس آگئے۔اسباب خداوندی کا ظہور ان دنوں فرافینی کے قریب ایک شہر کا عور میں جماعت احمدیہ کا ایک کلینک تھا۔ہمارے ایک دوست مکرم عمر علی طاہر صاحب مبلغ سلسلہ نے ادھر متعینہ ڈاکٹر صاحب سے مل کر ان کو وہاں کام پر لگوا دیا۔لیکن خدا تعالیٰ نے عقل و فہم کی نعمت دے رکھی تھی۔اس لئے انگریزی بولنے والے دوست احباب کی میل ملاقات سے انگلش زبان سے کچھ شد بد حاصل کر لی تھی۔ترقیات کے زینے اب ڈاکٹر صاحب کی صحبت میں آکر ان کو انگلش بولنے، پھر مریضوں کی دیکھ بھال سے ان کے تجربات ، معلومات اور تعارف کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔اس دوران انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی راہنمائی میں انجکشن وغیرہ لگانا بھی سیکھ لیا۔آدمی ذہین تھے، جلد ڈاکٹر صاحب کے ترجمان پھر کمپوڈر بن گئے۔اب فرافینی شہر میں ڈاکٹر سامبو جان کے نام سے مشہور ہیں۔گزشتہ سال میں سینیگال سے گیمبیا جارہا تھا تو راستہ میں ان کا ذاتی کلینک آتا ہے۔میں ادھر چلا گیا تا کہ ان کو سلام کرلوں۔میں نے مریضوں کی اچھی خاصی تعداد دیکھی جو ڈاکٹر صاحب کے انتظار میں باہر بیٹھی ہوئی تھی۔میں نے کلینک کی طرف قدم بڑھائے تو ایک نوجوان نے مجھے فوراً روک دیا کہ ڈاکٹر صاحب بہت مصروف ہیں، آپ اندر نہیں جاسکتے۔خیر مرتا کیا نہ کرتا باہر بیٹھ گیا۔142