ارضِ بلال

by Other Authors

Page 132 of 336

ارضِ بلال — Page 132

ارض بلال- میری یادیں ) کو چلنا شروع کر دیا۔پھر اسے احساس ہوا کہ اس رفتار سے بہت کم زمین میری ہو سکے گی مجھے ذرا اور تیز چلنا چاہیے تاکہ زیادہ زمین میری ہو سکے۔اس پر اس نے تیزی کے ساتھ چلنا شروع کر دیا یہاں تک کہ دو پہر ہو گئی۔پھر اس نے سوچا مجھے دوڑنا چاہیئے تا کہ مزید رقبہ میرا ابن سکے۔اس پر اس نے دوڑنا شروع کر دیا۔اس طرح اس کا اس رقبہ کا احاطہ کافی وسیع ہوتا چلا گیا۔عصر کے قریب اسے احساس ہوا کہ اس رفتار سے اگر میں دوڑ تا رہا تو میں واپس نقطہ آغاز سفر تک بر وقت نہ پہنچ سکوں گا۔اس پر اس نے اور تیزی کے ساتھ دوڑ نا شروع کر دیا اور بڑی ہمت و جانفشانی کے ساتھ مقررہ وقت پر اپنی منزل پر پہنچ گیا۔لیکن اس تگ و دو میں اسقدر تھک چکا تھا کہ وہاں پہنچتے ہی زمین پر گر گیا اور ساتھ ہی اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔مصنف لکھتا ہے: دراصل اس کو صرف دو میٹر زمین کی ہی ضرورت تھی قبر کے لئے اگر قسمت میں ہو تو “ ایک مخلص غریب احمدی کی مالی قربانی گیمبیا کے ایک شہر بصے نامی میں ایک بزرگ احمدی رہتے ہیں جن کا نام محمد تر اول صاحب ہے۔نہایت ہی غریب مالی حالت بہت خراب، ذرائع آمد مفقود اور پھر افراد خانہ بھی خاصے تھے۔ایک شام میں ان کے ہاں گیا۔کھانے کا وقت تھا۔کہنے لگے، استاذ ہم اب کھانا تو کھا رہے ہیں لیکن ہم آپ کو اس کی دعوت نہیں دے سکتے میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے سادہ چاول ابالے ہیں اور ساتھ نمک مرچ پانی میں گھول کر اس کا شور بہ بنایا ہے۔اس کو چاولوں پر ڈال کر کھا رہے ہیں۔بہر حال مذکورہ بالا واقعہ سے ان کی مالی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔خاکسار نے ایک روز خطبہ جمعہ کے دوران بصے کے احباب جماعت کو ایک زرعی فارم بنانے کی تحریک کی چونکہ اکثر احباب تجارت پیشہ تھے اس لئے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا۔نماز جمعہ کے بعد یہ بزرگ مجھے میرے کمرے میں آکر ملے اور کہنے لگے، کل آپ فلاں گاؤں 132