ارضِ بلال — Page 11
عرض حال جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا اللہ تعالی کے فضل سے میں اپنی زندگی کی تلخ و شیریں اور گرم وسر دساٹھ سے زائد بہاریں دیکھ چکا ہوں۔کہیں تو خوشیوں اور مسرتوں کے شادیانے ہیں اور کہیں غموں اور دکھوں کے لامتناہی سلسلے۔ایک افریقن دوست سے ایک بار میں نے پوچھا: آپ کی عمر کتنی ہے کہنے لگے: ”آج کل بونس پر جارہا ہوں۔“ میں نے کہا: بھئی بونس سے کیا مراد ہے؟“ کہنے لگے: ”دیکھو! اللہ تعالی نے سرور کائنات فخر موجودات، خیر البشر حضرت محمد صلی ایم کو تو تریسٹھ سال کی زندگی عطا فرمائی تھی اس لئے انسان کی اصل عمر تو یہی ہے اگر کسی کو چند سال او پرمل گئے ہیں تو وہ بونس ہی ہے۔“ ہرانسان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں روزانہ ہی اچھے برے واقعات پیش آتے ہیں اگر انسان ان سب واقعات کو قلمبند کرناشروع کر دے تو سینکڑوں جلدیں تیار ہو جائیں۔ایک مصنف کی کتاب میری نظر سے گزری۔وہ لکھتا ہے کہ دنیا کا ہر انسان اپنے اپنے دائرہ میں ایک ہیرو ہی ہوتا ہے خواہ وہ ایک ادنی سا ملازم ہی ہو اور اس کی اپنی زندگی کے واقعات اس کے نزدیک اتنے ہی دلچسپ اور اہم ہوتے ہیں جس طرح کوئی ایک بہت بڑا سرکاری افسر ، تاجر ، قومی کھلاڑی ہو یا کسی بھی شعبہ حیات میں ترقیات کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو۔مصنف لکھتا ہے: ایک آدمی جو خرگوشوں کی دیکھ بھال پر مامور تھا وہ روزانہ اپنے اہل خانہ اور احباب رفاقت کو آکر اپنی عقلمندی ، بہادری ، ہوشیاری اور قابلیت کے یہی واقعات سناتا تھا کہ جو سفید خرگوش ہے وہ بڑا