ارضِ بلال — Page 123
ارض بلال۔میری یادیں حضور انور کی احباب جماعت کے ساتھ شفق حضور انور فرافینی میں نہایت کامیاب پروگرام کے انعقاد کے بعد آگے انجوار ا نامی قصبہ میں تشریف لے گئے۔ان دنوں اس جگہ پر جماعت احمدیہ کا ایک کلینک تھا جو مکرم ڈاکٹر منور احمد صاحب کے زیر نگرانی علاقہ بھر میں بنی نوع انسان کی خدمت کر رہا تھا۔حسب پروگرام اس مقام پرح حضور انور نے ایک رات کے لئے قیام فرمانا تھا اور مرکزی عاملہ کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ بھی کرنی تھی۔اس قیام کے دوران خاکسار نے مکرم داؤ د احمد حنیف صاحب امیر جماعت سے اس واقعہ کا ذکر کیا کہ کس طرح مکرم ڈاکٹر خلیل ینگا ڈ و صاحب نے اپنے بڑے بھائی صاحب جو ان کے موجودہ خاندان کے سربراہ تھے، کی وفات پر اخلاص اور عشق کے ساتھ سب دنیاوی رشتوں کو اپنے پیارے آقا حضرت خلیفتہ المسیح " کی خاطر قربان کر دیا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ایک بہت خوبصورت اور عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے خاندانی روایات، اہل خانہ کی باتیں ،ان کے گلے شکوے اور شکایتوں کی قطعی پر واہ نہیں کی اور اپنے بھائی صاحب کی وفات سے متعلقہ کسی بھی تقریب یا پروگرام میں شریک نہیں ہوئے۔مکرم امیر صاحب نے حضور انور کی خدمت میں یہ واقعہ بغرض دعا ذ کر کیا۔اس پر حضور نے فرمایا: ' آپ نے مجھے وہاں کیوں نہیں بتایا۔اب واپسی پرسید ھے ان کے ہاں جائیں گے۔“ چنانچہ حضور انور واپسی پر ان کی رہائش گاہ پر تشریف لائے اور اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔یہ واقعہ خلافت سے محبت اور وفا کا عجیب نظارہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو ایمان کے نور سے منور کر رکھا ہے اور ان کے دلوں میں خلافت کی خاطر ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کا جذبہ پیدا کر دیا ہے۔123