ارضِ بلال — Page 124
ارض بلال۔میری یادیں۔بیعت کے بعد اپنے گھر میں اذان بلند Farfenni قصبہ کے قریب ایک گاؤں Douta boulo ہے۔وہاں پر ایک بہت ہی فدائی اور مخلص احمدی مکرم Berom Bah صاحب رہتے ہیں۔نہایت سادہ اور نیک فطرت بزرگ ہیں۔انہوں نے مجھے اپنے احمدی ہونے کا واقعہ سنایا۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ ان کا گاؤں فرافینی کے قریب تھا۔اس لئے اکثر اپنے فارغ اوقات میں فرافینی کے بازار میں چلے جایا کرتے تھے۔ان کا تعلق فولانی قبیلہ سے تھا۔ایک دن بازار میں گئے تو ان کے ایک جاننے والے نے انہیں مذاق کے رنگ میں کہا دیکھو فلاں جگہ پر ایک سینیگالی آدمی تمہارے قبیلہ سے ہے اور ایک نئے دین کی تبلیغ کر رہا ہے ، جا کر اس کی بات سنو۔دراصل ان دنوں سینیگال کے ایک معلم مکرم حامد امبائی صاحب کو مکرم امیر صاحب نے فرافینی جماعت میں بھیجا ہوا تھا اور وہ بازار میں لوگوں کو تبلیغ کیا کرتے تھے۔اتفاق سے بیروم صاحب کی ملاقات معلم صاحب سے ہوگئی۔ابتدائی تعارف ہوا۔چونکہ دونوں ایک ہی زبان بولتے تھے اس لئے ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ہر بار معلم صاحب انہیں جماعت کے بارے میں بتاتے۔مکرم بیروم صاحب نیک فطرت اور سعید روح رکھتے تھے ایک دن بیعت کرنے کا فیصلہ کیا اور احمدی ہو گئے۔اس کے بعد اپنے گاؤں گئے۔یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ان کے گھر کے قریب ہی ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔جب شام ہوئی تو مکرم بیر وم صاحب نے اپنے صحن میں کھڑے ہو کر بآواز بلند اذان دینی شروع کر دی۔اس پر گاؤں کے سب مردوزن بڑے حیران ہوئے کہ بیروم کو کیا ہو گیا ہے۔نماز کے بعد لوگ آپکے پاس آئے اور پوچھا، آپ نے آج اپنے گھر میں اذان دی اور نماز بھی گھر میں ہی ادا کی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اس پر بیروم صاحب نے انہیں بتایا کہ اب میں احمدی ہو گیا ہوں، اس لئے میں کسی غیر احمدی امام کی اقتدا میں نماز ادا نہیں کرسکتا۔یہ بات سارے گاؤں میں مشہور ہوگئی۔آپ بڑے بے خوف اور بہادر آدمی تھے۔اس لئے کسی کی پرواہ نہیں کی۔اگلی نماز کے وقت پھر آپ نے اذان دی تو گاؤں کے نمبردار کے بیٹے جن کا نام محمد کمبا باہ صاحب ہے وہ ان کے 124