ارضِ بلال — Page 116
ارض بلال۔میری یادیں کہ وہ فوری طور پر بیعت کرلے گا اور پھر جماعت کا ممد و معاون ہوگا ، وہ آدمی اگر چہ بہت اچھا تھا مگر بیعت نہ کر سکا اور احمدیت کی نعمت سے محروم رہا۔لیکن اس کے باوجود غیر احمدیوں کو جماعت کی بہت تبلیغ کیا کرتا تھا اور کئی لوگ اس کی وجہ سے احمدیت کی آغوش میں آگئے۔خود بیعت نہ کر سکنے کی وجہ ی تھی کہ وہ سوکن نامی قصبہ کے ایک پیر صاحب کے بہت زیادہ زیر اثر تھا یہاں تک کہ اس نے اپنے ایک بیٹے کا نام بھی اس پیر صاحب کے نام پر رکھا ہوا تھا۔گونگا داعی الی اللہ کولح شہر میں ایک احمدی دوست تھے ، جو گونگے تھے اور درزی کا کام کرتے تھے۔انہوں نے اپنے ایک دوسرے گونگے دوست کو اپنے مخصوص انداز میں تبلیغ کرنی شروع کی۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کی تصاویر اور دوسری جماعتی تصاویر اور دیگر ذرائع سے جماعت کے بارے میں تبلیغ کی جس کے نتیجہمیں اللہ کے فضل سے دوسرے گونگے نوجوان نے بھی بیعت کرلی۔میں نے اس گونگے دوست کی بیعت کا واقعہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع" کی خدمت اقدس میں تحریر کیا، جس پر حضور بہت خوش ہوئے اور ان کے لئے دعا کی۔پھر جب 1988 ء میں حضور انور گیمبیا کے دورہ پر تشریف لائے تو یہ دونوں گونگے دوست فرافینی کے مقام پر حضور انور کے استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔انہوں نے حضور کی آمد پر حضور انور سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔حضور انور نے بھی ان کے ساتھ اشاروں میں چند باتیں کیں۔حضور انور نے جلسہ سالانہ انگلستان کے موقع پر ایک تقریر میں بھی اس واقعہ کا ذکر فرمایا تھا۔116