ارضِ بلال — Page 115
ارض بلال۔میری یادیں دوست ہیں )۔ایک استاذ صاحب کہنے لگے، کیا آپ صرف سامبا جالو صاحب کو ہی اس جلسہ کے لئے دعوت دینا چاہتے ہیں یا کوئی اور بھی اس جلسہ میں شرکت کر سکتا ہے؟ احمد لی صاحب نے بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں میں سے کوئی بھی بھائی اس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہیں گے۔اس پر گاؤں کے سرکردہ احباب نے باہمی مشاورت کے بعد اپنے دونوں اماموں مکرم عمر جالو صاحب اور مکرم سامبا جالو صاحب کو اپنے نمائندہ کے طور پر اس جلسہ میں شرکت کے لئے تیار کر دیا تا که از خود جا کر احمدیت کے بارے میں تحقیق کریں اور واپس آکر ہم سب کو حقیقت سے آگاہ کریں۔قصہ مختصر دونوں امام صاحبان حسب پروگرام جلسہ میں شریک ہوئے۔تین دن تک انہوں نے جماعتی نظام نظم وضبط علمی تقاریر ، احباب جماعت کا باہم اخلاص ، وفا ، پیار اور ہمدردی کے انمول رشتے کو اپنی جیتی جاگتی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ کیا۔ان کی نیک فطرت اور سعید روحوں نے بہت جلد حق کو شناخت کر لیا اور دونوں امام صاحبان نے جلسہ کے اختتام پر اپنے احمدی ہونے کا اعلان کر دیا۔پھر جب واپس سینی گال میں اپنے گاؤں پہنچے تو واپس آکر انہوں نے سب اہل قریہ کو بتایا کہ وہ جو کچھ جماعت کے بارے میں احمدیت کے معاندین اور مخالفین سے سنتے تھے ، سب کذب، جھوٹ اور افتراء ہے۔انہوں نے اپنا مشاہدہ اور تجر بہ بیان کیا اور بتایا کہ ہم دونوں اللہ کے فضل سے حق وصداقت کی دولت پاچکے ہیں اور بصدق دل و جان احمدیت میں شامل ہو چکے ہیں۔ان کے اس انکشاف کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے گاؤں کے کافی دوستوں نے بیعتیں کرلیں اور الحمد للہ اب وہاں پر ایک بہت مخلص جماعت قائم ہے۔جماعت کی مسجد بھی ہے لیکن عجیب بات ہے کہ وہ سامبا جالو جس کو آغاز میں ہمارا احمدی وفد ملنے کے لئے گیا تھا اور ہمیں امید تھی 115