ارضِ بلال — Page 113
ارض بلال- میری یادیں ) ہزار ہی ملیں گے اور ملیں گے بھی عبدالشکور سے لیکن وہ عبدالشکور یہ نہیں بلکہ اور عبدالشکور ہوگا۔خدا تعالیٰ نے اس طرح ہمیں یہ سبق دیا۔یہ کام اس کا اپنا ہے اور انتظام بھی از خود کرتا ہے۔آپ غور فرمائیں جو پانچ ہزار روپے مذکورہ بالا عبد شکور صاحب سے متوقع تھے وہ پانچ ہزار کسی اور عبدالشکور سے دلوا دیئے۔ٹمبل گاؤں میں احمدیت کا پودا لگ گیا 1985ء میں جب خاکسار پہلی بار بطور مبلغ سینیگال پہنچا، ان دنوں پورے ملک میں صرف چند ایک احمدی فیملیز تھیں۔جماعت کی کوئی مسجد اور مشن ہاؤس نہیں تھا۔اسلئے ابتدائی طور پر سینیگال کے ایک شہر کو لخ میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا۔پھر یہیں سے تبلیغ کے کام کا آغاز ہوا۔الحمد للہ اس آغاز کے نتیجہ میں بفضلہ تعالیٰ آج ملک کے کونے کونے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق اور نام لیوا موجود ہیں۔ایک روز چند احمدی دوست کو لخ شہر کے ایک کچے کمرے کے کچے فرش پر بیٹھے مضافات کو لخ میں دعوت الی اللہ کا پروگرام بنا رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ہم کس طرح ان لوگوں تک پیغام حق پہنچا سکتے ہیں۔ایک دوست نے تجویز دی کہ گیمبیا کا جلسہ سالانہ عنقریب بانجول میں منعقد ہونے والا ہے۔اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے حالات کے مطابق چند ایک مخلص ، شریف النفس اور بااثر دوستوں کو اس جلسہ میں شرکت کی دعوت دے اور اگر وہ لوگ اس روح پرور دعوت کو قبول کر لیں تو مجھے امید واثق ہے کہ ہر ایک نیک فطرت اور سعید روح شخص پر جلسہ کے روحانی ماحول اور حق و صداقت پر مبنی خطابات کا بہت گہرا اثر ہو گا۔سب دوستوں نے ان کی اس کارآمد تجویز کو بہت سراہا اور ہر ایک نے عہد کیا کہ وہ انشاء اللہ تعالیٰ اس کارخیر میں حسب توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لے گا۔ایک دوست جن کا نام مکرم الو جالو صاحب تھا۔یہ کو تال نامی قصبہ کے رہنے والے تھے، کہنے لگے، کولخ کے قریب ایک گاؤں جس کا نام مکمل ہے، وہاں پر میرا ایک بہت ہی گہرا دوست ہے۔جو 113