ارضِ بلال — Page 102
ارض بلال۔میری یادیں سر ہے۔ان کا اپنا گاؤں کمپانٹو سے بھی ہیں میل اندر جنگل میں ہے جہاں آنے جانے کا کوئی مناسب رستہ نہیں ہے۔یہ لوگ رستہ ریڑھوں پر طے کرتے ہیں۔میں خود بھی کئی دفعہ ان کے گاؤں گیا ہوں۔تصور کریں کہ کس طرح ایک دوسرے ملک کے دور دراز شہر اور پھر اس کے بعد بیسیوں میل دور دیہات سے وہ روح احمدیت کے لئے فرافینی آئی۔احمدیت کا پیغام لے کر اپنے علاقہ میں پہنچے اور پھر اس پیغام کو ہر سو پھیلانے میں شب وروز محو ہو گئے۔کیا یہ انسانی فعل ہے؟ ہر گز نہیں ! یہ خالص اللہ تعالی کا ارادہ اور فعل ہے۔سبحان اللہ۔کوسانار کے علاقہ میں احمدیت کا تعارف جن دنوں میں گیمبیا کے قصبہ فرافینی میں مقیم تھا وہاں سے سینیگال بھر میں رابطے کرنا بظاہر ناممکنات میں سے تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ خود ہی غیب سے تبلیغ حق کے لئے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔ایک دن فرافینی میں لومو (اتوار مارکیٹ) لگی ہوئی تھی۔یہ مارکیٹ جماعت احمدیہ کے کلینک کے قریب تھی اور شہر سے قدرے باہر تھی۔میں ایک معلم صاحب کے ساتھ مارکیٹ میں گیا۔رستہ میں میرے ایک واقف کار دوست کو میں نے سلام کیا۔اس آدمی کے ساتھ اس کا ایک مہمان بھی تھا۔اس مہمان نے اس آدمی سے میرے بارے میں پوچھا، یہ کون ہے؟ اس پر اس نے بتایا کہ یہ احمد یہ جماعت کا استاذ ہے۔اس پر مہمان نے کہا، کیا میں اس سے مل سکتا ہوں؟ اس نے کہا ،ضرورمل سکتے ہیں۔ابھی اس کے گھر جاتے ہیں اور جا کر اس سے ملتے ہیں۔وہ دونوں سیدھے میرے گھر آگئے۔اس وقت میرے ہاں سینیگال سے چند معلمین بھی آئے ہوئے تھے۔ان سے بھی ان کی ملاقات ہوئی۔اس دوران کھانے کا وقت ہو گیا۔ہم سب نے سینیگالی روایت کے مطابق اکٹھے مل کر ایک ہی برتن میں کھانا کھایا۔اس پر وہ بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا، یہ میں نے اپنے مذہبی لیڈروں میں کبھی نہیں دیکھا کہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں۔اس کے بعد عصر تک وہ 102