ارضِ بلال — Page 28
ارض بلال۔میری یادیں۔م دریائے گیمبیا اور انسانی خرید وفروخت اس دریا کا سینہ تو زیادہ چوڑا نہیں لیکن اس کا پیٹ کافی گہرا ہے جس کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے بحری جہاز چند سوکلومیٹر کا سفر اندرون ملک بآسانی کر سکتے ہیں۔دریائے گیمبیا غلاموں کی تجارت کا ایک بہت اہم ذریعہ تھا۔گیمبیا کے بعض جزائر میں غلاموں کی قید و بند کے لئے بہت سے قید خانے بنے ہوئے ہیں۔ان میں جارج ٹاؤن جیمز آئی لینڈ وغیرہ معروف ہیں۔ہمیں اس دریا کے راستے پندرہویں سے سترہویں صدی تک تقریباً تین ملین معصوم انسانوں کو جانوروں کی طرح جہازوں میں لاد کر دنیا بھر میں انسانوں کی خرید وفروخت کی منڈیوں میں لے جا کر ان کی قسمت کے مالکان کے حوالے کر دیا جاتا رہا۔زراعت یہاں کی زمین بہت زرخیز ہے مگر وسائل کی کمی کے باعث پانی کی دستیابی مشکل ہے۔اہل گیمبیا کی اہم زراعت مونگ پھلی ، باجرہ ہکئی اور چاول کی فصلیں ہیں۔موسم برسات موسم برسات جولائی سے اکتوبر تک رہتا ہے۔اہل گیمبیا کی زراعت کا انحصار اسی موسم پر ہے۔اس میں اپنی فصل کاشت کرتے ہیں۔چند ماہ کے بعد اسے کاٹ لیتے ہیں جس سے ان کے لئے سال بھر کے دانے آجاتے ہیں۔گیمبین لوگوں کے دلوں کی طرح ان کی زمین بھی جو عام حالت میں بہت سخت ہوتی ہے، جو نبی ہلکی سی بارش ہو جائے ، بالکل نرم ہو جاتی ہے۔کسان ایک گدھے، گھوڑے یا بیل سے ہی ہل چلا لیتے ہیں۔اس کا تصور پاکستان کا زمیندار نہیں کر سکتا کیونکہ ہمارے ہاں تو زمین میں بار بار ہل چلانا پڑتا ہے۔لیکن یہ لوگ صرف ایک 28