ارضِ بلال — Page 283
ارض بلال۔میری یادیں 1998ء میں پہلی بار گیمبیا تشریف لائے۔ان دنوں مکرم امیر صاحب رخصت پر پاکستان گئے ہوئے تھے اور خاکسار قائم مقام کے طور پر خدمت کر رہا تھا۔اس دور میں میرے پاس ایک پرانی سی گاڑی تھی جو اکثر اوقات خراب رہتی تھی۔پہلے تو گاڑی پرانی تھی ، دوسرے اس کا سٹیرنگ کاٹ کر بائیں سے دائیں طرف لگا دیا گیا تھا، کیونکہ جاپان مشن نے غلطی سے رائٹ ہینڈ ڈرائیونگ والی گاڑی بھجوادی تھی۔جبکہ گیمبیا اور سینیگال میں لیفٹ ہینڈ ڈرائیونگ ہوتی ہے پھر گیمبیا اور سینیگال کے کچے اور خستہ حال رستوں پر چلنے سے گاڑی اور بھی بہت سی بیماریوں کا شکار تھی۔میں نے مکرم ڈاکٹر صاحب اور انکی بیگم صاحبہ کو مختلف جماعتوں کے دورہ پر لے جانے کا پروگرام بنایا۔ان دنوں مکرم ڈاکٹر لئیق انصاری صاحب کے سسر مکرم چغتائی صاحب بھی گیمبیا آئے ہوئے تھے۔جب انہیں معلوم ہوا تو ڈاکٹر انصاری صاحب اور ان کے سسر محترم بھی ہمارے ساتھ جانے کیلئے تیار ہو گئے۔ہم نے سب سے پہلے Bara کی طرف جانے کا پروگرام بنایا۔اس کے لئے فیری لینی تھی۔فیری ٹرمینل پر پہنچے۔سخت گرمی کا موسم تھا۔گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے کوئی مناسب ذریعہ بھی نہ تھا۔یہاں سے سینیگال کے علاقہ کا سانس کی بہت ساری گاڑیاں سینیگال کے دیگر شہروں میں جانے کے لئے دریا عبور کرتی ہیں۔اس لئے یہاں پر غیر معمولی رش ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے چند گھنٹے تک وہاں ہی انتظار کرنا پڑا۔گرمی کی شدت ، پسینے سے کپڑے شرابور اور پیاس کی وجہ سے یہ گھڑیاں کافی مشکل سے گزر رہی تھیں۔ہم لوگ تو اس کیفیت کے عادی تھے۔مگر مہمانوں کی حالت خاصی پریشان کن تھی۔خیر سے فیری آئی اور ہم لوگ دریا پار کر کے دوسری جانب جا پہنچے۔اب اگلا راستہ بہت زیادہ خراب تھا اور اب موسم برسات کی وجہ سے اس کی حالت پہلے سے بھی بدرجہا بد تر تھی۔جابجا گڑھے 283