ارضِ بلال — Page 26
ارض بلال- میری یادیں ) کی طرح ہے۔سینیگال جب چاہے مگر مچھ کی طرح منہ بند کرلے اور زبان کو غائب کر دے۔در حقیقت گیمبیا کاسینی گال اور سمندر کے علاوہ کوئی بھی ہمسایہ نہیں ہے۔سینیگال کے ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جانے کے لئے گیمبیا میں سے گزرنا پڑتا ہے۔مذہب ہے۔تلی تھی۔آبا دی چورانوے فیصد ( %94) مسلمان ہے۔باقی تعداد عیسائیوں اور دیگر مذاہب کی احمدیت سے قبل ان اقوام پر عیسائیت کا بہت زیادہ اثر تھا کیونکہ یہ قوم انگریزوں کے زیر اکثر تعلیمی ادارے عیسائیوں کے تھے۔اس لئے اکثر طالب علموں کے دو نام ہوتے تھے۔ہر طالب علم کا ایک پیدائشی اسلامی نام ہوتا تھا دوسرا عیسائی نام جو سکول میں داخلہ کے وقت انتظامیہ اسے دیتی تھی۔مسلمان ملک ہونے کی برکت سے کئی دیگر ممالک کی نسبت یہاں بہت سی قباحتیں کم ہیں۔جملہ اس ملک کے معروف اسلامی فرقے تیجانی ، مرید ، قادریہ ہیں۔چند ایک عرب ممالک کی پروردہ تنظیمیں بھی ہیں۔یہ سینیگال میں موجود معروف پیروں کی گدیاں، درباروں اور مسلم تنظیموں سے وابستہ ہیں۔آجکل سعودی بلاک کے مقابل پر ایران نے بھی اپنے مدارس و مساجد کا پروگرام شروع کر رکھا ہے۔در پائے گیمبیا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ چھوٹا سا غیر معروف خطہ ارض کیوں ان بڑی بڑی اقوام کے لئے غیر معمولی توجہ کا مرکز بنارہا ہے؟ دراصل یہ سب کچھ دریائے گیمبیا کی غیر معمولی حیثیت کی وجہ سے تھا۔26