ارضِ بلال — Page 215
۔] ارض بلال۔میری یادیں باب چهارده۔۔۔میدان عمل سے چند دلچسپ تبلیغی واقعات نڈ وفان میں استاذ یوسف کے ساتھ مباحثہ جن دنوں میں فرافینی میں رہتا تھا، ایک دن سینیگال کے علاقہ نڈوفان سے ( یہ شہر فرافینی سے ساٹھ میل کے فاصلہ پر ہے ) ایک احمدی دوست نے مجھے بتایا کہ ایک نوجوان دینی تعلیم کے لیے سعودی عرب گیا ہوا تھا اور تحصیل علم کے بعد واپس آگیا ہے اور جماعت احمدیہ کے خلاف بہت زہریلا پراپیگنڈہ کر رہا ہے۔میں نے اس احمدی بھائی سے وعدہ کیا کہ میں جلد ہی سینیگال آؤں گا اور اس عربی استاذ سے بات کروں گا۔ایک دن خاکسارا اپنے موٹر سائیکل پر ایک احمدی معلم استاذ علیو فائی کے ہمراہ نڈوفان پہنچ گیا۔یہ اتوار کا دن تھا۔اتوار کو اس شہر میں ایک مشہور مارکیٹ لگتی ہے۔علاقہ بھر سے لوگ اس میں خرید و فروخت کے لئے آتے ہیں۔جب میں مارکیٹ میں پہنچا، ایک احمدی دوست جو ایک قریبی گاؤں کا رہنے والا تھا ( ان دنوں اس پورے علاقہ میں چند ایک احمدی بھائی تھے جو مختلف دیہات میں رہتے تھے ) وہ بھی یہاں آیا ہوا تھا۔جب میں نے اسے بتایا کہ میں تو عربی استاذ سے بات چیت کے لئے آیا ہوں تو وہ سخت ڈر گیا۔کہنے لگا یہاں مولوی گروپ بہت خطرناک ہے۔مجھے بھی اور آپ کو بھی نقصان پہنچا ئیں گے۔میں نے اسے بتایا آپ فکر نہ کریں اور نہ ہی آپ سامنے آئیں ، مجھے دور سے دکھا دیں۔باقی کام میں کرلوں گا۔خیر اس نے ایک دکان کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ وہ اس دکان میں بیٹھا ہوا ہے۔میں اور استاذ علیو فائی اس دکان میں پہنچے۔میں نے دکان میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو سلام کیا اور استاذ کے بارے میں پوچھا۔استاذ نے مجھے بتایا کہ وہ ہی استاذ یوسف ہے۔میں نے اسے بتایا کہ میرا نام منور احمد ہے اور گیمبیا سے آیا ہوں اور جماعت احمدیہ کا مبلغ ہوں۔میں نے کہا کہ میں نے سنا ہے آپ کو جماعت کے بارہ 215