ارضِ بلال — Page 198
۔میری یادیں دورہ پر پاکستان بھی گئے لاہور جماعت کے مہمان بنے اور اور مرکز احمدیت ربوہ جا کر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی زیارت بھی کی۔اس دور میں بہت کم لوگ حج کی توفیق پاتے تھے۔آپ نے اس دور میں حج کی توفیق بھی حاصل کی۔آپ کا خاندانی تعلق سابق صدر مملکت داؤ د جوار اصاحب کے ساتھ تھا۔ملک میں فوجی انقلاب آنے پرنئی حکومت کے زیر عتاب آگئے۔کافی مشکل دور سے گزرے۔موقع ملنے پر کینیڈ اتشریف لے گئے۔آجکل کینیڈا میں بھی جماعت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔الحاج ابراہیم مبوصاحب مکرم ابراہیم صاحب گیمبیا جماعت ایک مخلص دوست ہیں۔بہت پڑھے لکھے ہیں۔امریکہ سے اعلی تعلیم حاصل کی ہے۔بطور پرنسپل تعلیمی میدان میں خدمت کرتے رہے ہیں۔جماعتی لحاظ سے بھی انہیں ممبر مجلس عاملہ، نائب امیر گیمبیا کے علاوہ اور بھی بہت سی حیثیتوں میں خدمت کی توفیق ملی ہے۔ایک دفعہ ان کے قبیلہ کا ایک آدمی جماعت سے علیحدہ ہو گیا۔تو کچھ معروف لوگ اکٹھے ہوکر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ابراہیم دیکھو اب تو فلاں دوست نے جماعت چھوڑ دی ہے۔بہتر ہے تم بھی جماعت چھوڑ کر واپس ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔اس پر ابراہیم صاحب نے کہا کہ آپ کی ہمدردی کا شکریہ۔لیکن یہ بات تو بالکل ناممکن ہے۔جہاں تک اس دوست کا تعلق ہے جس نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ممکن ہے اس کی جماعت میں شمولیت کی وجہ کچھ اور ہولیکن میری شمولیت کی وجہ اور ہے۔اس پر وہ لوگ ناکام و نامراد واپس چلے گئے۔198