ارضِ بلال — Page 199
۔۔۔۔۔ارض بلال۔میری یادیں باب سیزده۔۔۔۔۔] سینیگال کے چند مخلصین کا تذکرہ مکرم حمد باہ صاحب ایک نڈر داعی الی اللہ مکرم حمد باہ صاحب بفضلہ تعالیٰ بہت ہی نڈر اور بہادر احمدی ہیں۔ساری عمر انہوں نے سفر میں گزار دی ہے۔ہر ملنے والے کو علیک سلیک کے بعد جماعت کا پیغام دینا ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔وہ ہمیشہ ہی اپنا افریقن چولا پہنتے ہیں اور اس کے نیچے ایک بندوق اور ایک لمبا چھرا جسے Cutlas کہتے ہیں ضرور رکھتے ہیں جو ابھی تک باوجود ضعیف العمری کے ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔ایک روز ہمارے ایک لوکل معلم مکرم حامد مبائی صاحب ان کے علاقہ میں ایک پیر صاحب کو تبلیغ کرنے گئے۔پیر صاحب جوابات نہ دے سکے تو ان کے حواریوں نے ہمارے معلم صاحب کو پکڑ لیا اور ان کو مارنے کی کوشش کی۔اس دوران مکرم حمد باہ صاحب کچھ دور چلے گئے اور اپنی بندوق کی نالی پیر صاحب کی طرف کر دی اور زور سے کہا: ہاں تم ہمارے معلم کو ہاتھ لگا ؤ تو دیکھو کس طرح میں تمہارے پیر صاحب کو 66 ابھی گولی سے اُڑاتا ہوں۔“ اس پر سب لوگ ڈر گئے اور انہوں نے معلم صاحب کو چھوڑ دیا۔ان کی تبلیغ کے ذریعہ سے سینیگال بھر میں بہت سے مقامات پر لوگوں کو احمدیت کی نعمت ملی۔اب ضعیف العمری کے باعث ان کی صحت کافی کمزور ہو چکی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے صحت و سلامتی والی لمبی عمر عطا فرمائے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک بہت ہی تاریخی وجود ہیں۔یہ سینیگال میں احمدیت کے ایک ہیرو ہیں۔199