ارضِ بلال — Page 185
ارض بلال۔میری یادیں ) سنگ و خار بھی ان کے عزم کے سامنے حائل ہونے سے گریزاں تھے۔میں نے سوچا شاید غربت وافلاس جوتوں کی خرید میں حائل ہے لیکن بعد میں میں نے دیکھا کہ یہ بزرگ بفضلہ تعالیٰ مالی قربانی میں سب جماعت میں پیش پیش ہیں۔علم وفضل جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، ان کا خاندان ملک بھر میں علمی قبیلہ تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مکرم بایو صاحب کو علم القرآن والحدیث میں خاصی دسترس حاصل تھی۔عربی زبان کو پڑھنے کے علاوہ عربی تحریر و تقریر میں بھی موصوف کو خاصہ ملکہ حاصل تھا۔امام الصلوة خدا تعالیٰ کے فضل سے نماز روزہ میں بہت با قاعدہ تھے۔گرمی ہو یا سردی ہو ، وہ اپنے گاؤں سے، جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ ان کا گاؤں BASSE شہر سے تقریبادوکلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور ان کے گاؤں میں صرف دو ہی احمدی دوست تھے اس لئے نماز جمعہ کے لیے باقاعدہ BASSE تشریف لاتے علمی شخصیت ہونے کے وجہ سے نماز جمعہ آپ ہی پڑھاتے۔تائید الہی کا عجیب واقعہ اگست 1983 ء کی بات ہے کہ مکرم امام علی با یو صاحب کی درخواست پر جماعت احمد یہ BASSE نے ان کے گاؤں ڈانفا کنڈا میں ایک تبلیغی پروگرام ترتیب دیا۔اس زمانہ میں تبلیغی میٹنگزا اکثر رات کو منعقد کی جاتی تھیں کیونکہ دن کے اوقات میں اکثر لوگ اپنی کھیتی باڑی کے کاموں میں مصروف ہوتے تھے اس لئے عموما نماز عشاء کے بعد رات گئے تک اس قسم کے اجلاس ہوتے رہتے تھے۔ہم چند احباب جماعت جن میں ڈاکٹر نصیر الدین صاحب انچارج احمد یہ میڈیکل سنٹر BASSE، مکرم عمر سونکو صاحب اور بعض دیگر احباب جماعت ایک مختصر قافلہ کی شکل میں ان کے گاؤں میں پہنچے۔پھر حسب پروگرام مکرم علی بایو صاحب کے محلہ میں ایک کھلی جگہ پر جلسہ شروع کیا۔185