ارضِ بلال — Page 183
۔میری یادیں اندوہناک وصال امیر صاحب نے ان کو گنی بساؤ سے واپس بلا لیا اور ان کی جلسہ سالانہ انگلستان کے لئے تیاری شروع ہو گئی۔ان دنوں میں اور مکرم امیر داؤ د احمد حنیف صاحب سینی گال کے دارلحکومت ڈاکار بعض ضروری امور کے سلسلہ میں گئے ہوئے تھے۔ایک روز ہم نے ڈاکار سے بانجول مشن میں کسی غرض سے فون کیا تو علم ہوا کہ آج اچانک مکرم یوبی صاحب کی طبیعت خراب ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی راہی ملک عدم ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔غیروں کے تاثرات آپ کی وفات اس قدر اچانک اور غیر متوقع تھی کہ ایک لمبا عرصہ تک تو یقین ہی نہ آتا تھا کہ وہ یوں ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔میں نے ایک لمبا عرصہ ان کے ساتھ گزارا۔خدا شاہد ہے میں نے ان کو کبھی بھی کسی کے ساتھ لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ہر کسی کے ساتھ خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی، محبت اور ہمدردی کے ساتھ پیش آتے۔اگر کوئی غیر احمدی مذاق مذاق میں آپ کے ساتھ زیادتی بھی کر جاتا تو ہمیشہ مسکرا کر بات ڈال جاتے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات پر ہم نے ہر دل حزیں اور ہر چہرہ پر ملال اور ہر آنکھ اشکبار دیکھی اور ہر ملنے والا ان کے اوصاف حسنہ میں رطب اللسان ملا۔جب ان کی نماز جنازہ کا وقت آیا تو بیشتر غیر از جماعت دوستوں نے بھی ہمارے ساتھ اس فرشتہ سیرت انسان کی نماز جنازہ ادا کی۔بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر شيا امام علی با یوصاحب یہ کہانی ایک ایسے درویش کی ہے جس کی قبولیت دعا اور تعلق باللہ کے نظاروں کا میں خود شاہد ہوں۔1983ء کی بات ہے کہ خاکسار پہلی بار مکرم داؤد احمد حنیف صاحب کے ہمراہ BASSE( گیمبیا کے دارلحکومت بانجول سے تقریباً چارسوکلومیٹرز کے فاصلہ پر واقع شہر ہے ) پہنچا۔183