ارضِ بلال — Page 176
ارض بلال- میری یادیں ) سے بے اختیار یہ نکل گیا کہ الحاج کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بن گیا ہے اور فلاں دن کو ان کا کام تمام ہو جائے گا۔اس پر پاجفنے نے فوری طور پر جماعت فرافینی کے صدر با شیخو د بیا کو بتا دیا۔صدر صاحب نے پولیس میں رپورٹ درج کرادی۔اس پر تھانے کے سر براہ نے جو کہ نہایت ایمان دار اور شریف النفس انسان تھے۔پاجفنے کو فوری طور پر بلا کر ان کا بیان ریکارڈ کروایا۔اس کے بعد اس شخص کو بلا کر بڑی سختی سے باز پرس کی جس سے یہ راز افشا ہوا تھا۔نتیجہ اس شخص نے اس منصوبہ میں شامل جملہ افراد کے نام لکھوادیئے۔اس پر تھانے دار صاحب نے سب افراد کو تھانے حاضر کروالیا اور انہوں نے وہاں اقبال جرم بھی کر لیا۔اس پر تھانے دار صاحب نے انہیں سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ سب کے نام لکھ لئے ہیں۔اب اگر کسی بھی جگہ پر الحاج کو کچھ ہوا تو سب سے پہلے آپ مورد الزام ٹھہرائے جائیں گے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے الحاج کو ان کے خطرناک منصوبوں سے محفوظ رکھا اور جملہ دشمنوں کو نا کامی کا سامنا کرنا پڑا۔انى مهين من اراد اهانتك اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کیلئے ایک خاص غیرت رکھتا ہے۔ایک دفعہ الحاج جکنی صاحب بانسنگ کے علاقہ میں بعض احمدی احباب کے ہمراہ ایک گاؤں میں دعوت الی اللہ کے لیے تشریف لے گئے۔جب گاؤں کے الکالی (نمبر دار ) کو علم ہوا تو وہ بہت غصے میں ان کے پاس آیا اور الحاج کو اپنے گاؤں سے فوری طور پر چلے جانے کو کہا اور ساتھ ہی کہا کہ آئندہ میں تمہیں اس علاقہ میں نہ دیکھوں۔اس پر الحاج جکنی صاحب کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس قابل ہی نہ رہنے دے گا کہ تم ہمیں دیکھ سکو۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد الکالی کی بینائی ضائع ہوگئی اور الحاج کے الفاظ اللہ تعالیٰ نے عجیب شان سے پورے کر دیئے۔دعوت الی اللہ۔غیرت دینی الحاج جکنی صاحب کو دعوت الی اللہ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو علم الکلام 176