ارضِ بلال — Page 133
۔میری یادیں میں جو میرا کھیت ہے ادھر پہنچ جائیں۔میں نے پوچھا، خیریت ہے! کہنے لگے، بس آپ آجائیں پھر بتاؤں گا۔میں اگلے روز اس جگہ پہنچ گیا۔تر اول صاحب اپنے کھیت میں ہل چلا رہے تھے۔مجھے دیکھ کر میرے پاس آئے اور مجھے ساتھ لے کر کھیت کے وسط میں چلے گئے اور کہنے لگے اس میں آدھا کھیت میرا اور آدھا جماعت کو دے دیا ہے کام میں کروں گا اور آمد جماعت کو جائے گی۔ان کے اخلاص کا آج تک میرے ذہن پر بڑا گہرا اثر ہے کہ کس طرح ایک غریب احمدی نے اپنے آپ کو جماعتی خدمت کیلئے پیش کر دیا تا کہ جماعت کی آمد بڑھ سکے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی مالی حالت بہت بہتر ہے۔ڈاکٹرینگا ڈ وصاحب کا اخلاص گیمبیا میں فرافینی کے مقام پر ایک نہایت ہی بزرگ، تقومی شعار، دعا گو اور پانچ وقت نماز کے پابند ڈاکٹر صاحب رہتے تھے۔ان کا نام خلیل ینگاڈ و صاحب تھا۔چند سال پہلے ان کا وصال ہو گیا ہے۔افریقہ کے جن ممالک تک میرا تعارف اور شناسائی ہے، میرے علم کے مطابق مالی قربانی میں ان کا کوئی مثیل نہیں تھا۔لازمی چندہ جات کے علاوہ زکوۃ با قاعدہ نصاب کے مطابق دیتے تھے۔علاوہ ازیں بینک سے جور قم بطور سود ملتی ، وہ بھی لے کر من وعن جماعت میں ادا کرتے تھے۔فرافینی میں ہماری مسجد زیر تعمیر تھی۔اس تعمیر میں مقامی کوشش زیادہ تھی کیونکہ اس وقت مرکزی امداد کم ملا کرتی تھی۔مسجد کا ہال وغیرہ مکمل ہو گیا۔نمازیں پڑھنی شروع کر دیں لیکن احاطہ کی چار دیواری فنڈز نہ ہونے کے باعث نہیں بن رہی تھی۔ایک دن علی الصبح ڈاکٹر صاحب میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے، مسجد کے پلاٹ کی چار دیوری ہمیں جلدی بنوانی چاہئے کیونکہ جانور مسجد کے احاطہ میں داخل ہو جاتے ہیں جس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے۔میں نے فنڈ ز کے نہ ہونے کا بتایا۔133