ارضِ بلال

by Other Authors

Page 117 of 336

ارضِ بلال — Page 117

ارض بلال۔میری یادیں ہمارے علاقہ میں ایک پاگل ہے۔ایک داعی الی اللہ کی کہانی 1985ء میں خاکسار مرکز کے ارشاد پر سینیگال کے شہر کولے میں آ گیا۔ان ایام میں سینی گال بھر میں صرف گنتی کے احباب جماعت تھے جو اکثر مزدور پیشہ تھے۔چند دیہاتی احمدیوں کا شغل کھیتی باڑی تھا۔میرے پاس مالی وسائل اور اسباب سفر نہ ہونے کے برابر تھے۔اس لئے ہر آن یہی فکر دامن گیر تھی کہ تبلیغی کام کا آغاز کہاں سے کیا جائے اور کیسے شروع کیا جائے؟ میرے گھر کے قریب ایک احمدی دوست عبد اللہ آؤ صاحب کی بیٹری مرمت کرنے کی چھوٹی سی ورکشاپ تھی۔میں اپنے فارغ اوقات میں ان کے پاس جا کر بیٹھ جاتا اور ان کے ساتھ جماعت کے بارے میں مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہتی۔پھر ان کے پاس آنے جانے والوں سے بھی تعارف ہو جاتا اور حسب موقع انہیں جماعت کا پیغام بھی پہنچانے کا موقع مل جاتا۔ایک روز میں عبداللہ صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک مولوی قسم کا آدمی ان کے پاس کسی کام کے لئے آیا۔عبداللہ صاحب نے اپنے اس گا ہک سے میرا تعارف کرایا اور اسے بتایا کہ یہ میرے دوست گیمبیا سے آئے ہیں اور ہماری جماعت کے مبلغ ہیں۔اس کے بعد میں نے موقع محل دیکھ کر جماعت کے بارے میں بات چیت شروع کر دی۔اس پر وہ مولوی صاحب کہنے لگے، میں جماعت کے بارے میں جانتا ہوں۔میں نے پوچھا، آپ جماعت کے بارے میں کیسے جانتے ہیں؟ مولوی صاحب کہنے لگے، ہمارے علاقہ میں ایک پاگل ہے جو ہر وقت لوگوں کو جماعت احمد یہ کی تبلیغ کرتا رہتا ہے۔میرے لئے یہ بات بہت دلچسپ تھی کہ وہ کونسا احمدی ہے جو اپنے علاقہ میں اتنی تبلیغ کرتا ہے کہ لوگوں نے اسے پاگل کہنا شروع کر دیا ہے۔میں نے اس مولوی صاحب سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ کون ہے، کہاں رہتا ہے کیونکہ اس زمانہ میں سینیگال بھر میں صرف معدودے چند احمدی بھائی تھے اور میں ان سب کو اچھی طرح جانتا تھا۔میرے اس سوال پر مولوی صاحب نے جواب نہ دیا بلکہ بات ٹالنے کی کوشش کی کیونکہ میرے لئے یہ بہت بڑی خبر تھی 117