ارضِ بلال — Page 110
ارض بلال- میری یادیں) اس دوران میں نے انہیں جماعت احمدیہ کا بڑی حکمت کے ساتھ تعارف کرانا شروع کر دیا۔شروع میں تو وہ کافی بحث کرتے بلکہ بسا اوقات کج بحثی بھی کرتے مگر بعد میں آہستہ آہستہ رام ہوتے گئے اور جماعت کے عقائد اور جماعت احمدیہ کی عالمی خدمات سے بھی کافی متاثر ہو گئے۔اس کے بعد میں نے انہیں فرانسیسی زبان میں جماعتی کتب دینا شروع کر دیں۔جن میں دعوت الامیر، دیباچہ تفسیر القرآن اور چند دیگر کتب بھی تھیں چونکہ پڑھے لکھے تھے اور تعصب کی لعنت سے پاک تھے اس لئے جب انہوں نے کتابیں پڑھ لیں تو اس کے بعد میں نے انہیں بیعت کرنے کی مناسب رنگ میں تحریک کی اور ایک بیعت فارم بھی انہیں دے دیا۔انہوں نے بیعت فارم لے لیا، اسے پڑھ کر اپنے پاس رکھ لیا اور وعدہ کیا کہ وہ جلد بیعت فارم مکمل کر کے مجھے دے دیں گے۔اس کے بعد چند بار میں نے ان سے بیعت فارم کے حوالے سے بات کی مگر وہ خاموش رہے۔میں بھی اس مسئلہ میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتا تھا۔اس سلسلہ کو کئی ماہ گزر گئے لیکن انہوں نے بیعت فارم پر دستخط نہیں کیے۔پھر میں نے محسوس کیا کہ اب وہ جماعت کے بارے میں بات چیت کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ دراصل ان کی اہلیہ سینیگال کے ایک بڑے معروف پیر خاندان کی بیٹی تھیں۔مجھے ایسے لگتا ہے کہ انہیں ان کے سسرال والوں نے ڈرایا دھمکایا ہوگا جس پر میں نے بھی اس مسئلہ میں خاموشی اختیار کر لی لیکن مجھے اس بات کی خاصی تکلیف تھی کہ اس شخص پر میں نے کافی محنت کی ہے اور یہ شخص پڑھا لکھا بھی ہے۔مجھے اس کے بارے میں خاصی خوش فہمی ہو چکی تھی کہ اگر اس نے بیعت کر لی تو امید ہے انشا اللہ جماعت کے تعارف اور ترقی کے بہت سے دروازے کھل جائیں گے۔اب ان کے اس منفی طرز عمل سے مجھے خاصا دھچکا لگا۔خیر اس کے بعد بھی میرا ان سے ہمیشہ ہی بہت اچھا تعلق رہا۔اگر مجھے کسی بھی علمی کام میں ان کی ضرورت پڑتی تو بڑی فراخدلی سے سرانجام دیتے۔110