عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 76 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 76

جائے گا یہ کس کو خبر تھی کہ اس قدر شہر اور دیہات یک دفعہ زمین میں دھنس کر تمام عمارتیں نابود ہو جائیں گی اور اُس زمین کی ایسی صورت ہو جائے گی کہ گویا اس میں کبھی کوئی عمارت نہ تھی پس اسی بات کا نام تو معجزہ ہے کہ کوئی ایسی بات ظہور میں آوے جو پہلے اس سے کسی کے خیال و گمان میں نہ تھی اور امکانی طور پر بھی اس کی طرف کسی کا خیال نہ تھا۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۶۲ تا ۱۶۳) چند فقرات کی بناء پر سرقہ کے الزام کے نتائج اس ساری بحث پر نظر کرنے سے حضور علیہ السلام کی بات ہی سچی ثابت ہوتی ہے کہ کسی کے کلام میں پائے جانے والے قدیم کتب کے چند فقرے یا الفاظ کو سرقہ قرار دیا جائے تو پھر اس سے تو کوئی کتاب بھی محفوظ نہیں رہے گی بلکہ الہامی کتب بھی اس الزام سے باہر نہیں رہیں گے۔جیسا کہ آپ نے فرمایا: اگر اس کو ایک جائز اعتراض سمجھا جائے تو نہ اس سے قرآن شریف باہر رہ سکتا ہے اور نہ احادیث نبویہ اور نہ اہل ادب کی کتابوں میں سے کوئی کتاب۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۲) نیز اس قسم کے سرقہ کے الزام کے بارے میں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ :