عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 77 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 77

بجز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے۔انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔اگر بعض پر فصاحت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں شعرائے جاہلیت کے قصائد میں دیکھی جائیں تو ایک لمبی فہرست طیار ہو گی اور ان امور کو محققین نے جائے اعتراض نہیں سمجھا۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۴) آپ علیہ السلام کی بات سو فیصد درست ہے۔کیونکہ قرآن کریم کے بعض فقرات کے بارے میں بعض جلد باز مخالفین نے اعتراض کیسے ہیں اور اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی بنا پر بعض عیسائی آنحضرت صلی الم پر جاہلیت کے زمانے کے قصائد سے سرقہ کا الزام عائد کرتے ہیں۔ذیل میں اس کی چند مثالیں پیش ہیں۔آیت قرآنيه عَلَى الله قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ) (النحل: ١٠) کو امرؤ القیس کے کلام کی نقل قرار دیا گیا ہے۔امرؤ القیس نے کہا تھا: وَمِنَ الطَّرِيقَةِ جَائِرٌ وَهَدَى قصد السَّبِيْلِ، وَمِنْهُ ذُو دَخل " (ديوان امرؤ القيس، صفحة ۱۳١، قافية اللام، دار الكتب العلمية بيروت ٢٠٠٤م) اسی طرح قرآن کریم میں آیا ہے: فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسَ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ) (الرحمن: ٥٧)