عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 48
انہوں نے ان کے استعمال اپنی نظم اور نثر میں جائز رکھے ہوں، اور کسی ملامت سے نہ ڈرے ہوں، اور نہ کسی اضطرار سے وہ الفاظ استعمال کیے ہوں۔پس جبکہ بلاغت کا مدار اسی قاعدہ پر ہوا، پس یہی قاعدہ ان عبارات بلیغہ کے لئے معیار ہے جو فصاحت کے آسمان پر چڑھے ہوئے اور بلندی میں گرج رہے ہیں۔پس اس بات میں کچھ بھی حرج نہیں کہ ایک غیر زبان کا لفظ ہو مگر بلغاء نے اس کو قبول کر لیا ہو بلکہ اس طریق سے تو بسا اوقات بلاغت بڑھ جاتی ہے اور کلام میں زور پیدا ہو جاتا ہے بلکہ بعض مقامات میں اس طرز کو فصیح اور بلیغ لوگ ملیح اور نمکین سمجھتے ہیں اور تفنن عبارات کے عشاق اس سے لذت اٹھاتے ہیں۔مگر تو تو اے معترض ایک غبی اور جاہل ہے اور باوجود اس کے تو جلد باز اور دشمن حق ہے اسی لئے تو بغیر کینہ اور جہل کے اور کچھ نہیں جانتا، اور بغیر گڑھے کے اور کسی جگہ قدم نہیں رکھتا۔اور تو نہیں جانتا کہ زبان عرب کیا شے ہے اور فصاحت کسے کہتے ہیں؟ اور صرف بے حیائی تجھ میں ہے نہ اور کوئی لیاقت اور تجھ کو تو کسی نے سکھایا ہے کہ تو پاکوں کو گالیاں دیتا ر ہے۔“ یہ عبارت کئی لحاظ سے بہت بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔فصاحت و بلاغت کے حوالے سے اس عبارت میں مذکور دو نا قابل تردید امور یہ ہیں: 487