عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 43 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 43

لیکن اگر کوئی مشہور لغت کے بالمقابل غیر مشہور لغات کا استعمال کرے تو اسے کلام عرب کے استعمال میں غلطی خوردہ نہیں کہا جائے گا۔تاہم بہتر اور مشہور لغت کو چھوڑ کر اس پر غیر مشہور لغت کو ترجیح دینے کی غلطی ضرور اس سے سرزد ہو گی۔تاہم اگر وہ شعر میں یا مسجع مقفی عبارت میں ایسا کرتا ہے تو یہ قابل قبول امر ہے اور اس کی مناہی نہیں ہے۔اسی طرح اگر کوئی بات کرتے وقت حوالہ دے کر لکھے کہ یہ فلاں قبیلہ کی زبان پر قیاس کر کے لکھا گیا ہے یا فلاں صرفی نحوی مذھب کے مطابق درج کیا گیا ہے تو بھی ایسی غیر مشہور لغات کے استعمال میں وہ حق بجانب ہو گا۔قصہ مختصر یہ کہ عربوں کی کسی بھی لغت پر قیاس کر کے بولا جانے والا کلام درست سمجھا جائے گا اور ایسا شخص غلطی مخوردہ نہیں کہلائے گا۔اگر چہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ وہ اگر اس غیر مشہور لغت کی جگہ مشہور لغت استعمال کرتا تو اس سے بہتر تھا۔عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جن بعض لغات یا استعمالات پر اعتراض کیا جاتا ہے ان میں سے اکثر مقامات حضور علیہ السلام کے سمع اور شعر سے لیے گئے ہیں اور اس بارے میں ابن جنی کہتے ہیں کہ ان دو مقامات پر غیر مشہور ورائج لغات کا استعمال جائز ہے اور اس کی کوئی مناہی نہیں ہے۔