عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 44 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 44

پھر بہت سی لغات کے بارے میں تحقیق سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ فلاں قبیلہ کی لغات کے مطابق درست ہے۔لیکن اگر اس کے علاوہ بھی آپ نے ایسی لغات یا اسالیب یا استعمالات لکھی ہوں جن پر یہ کہہ کر اعتراض کیا جائے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی تو اس کو آپ کا یہ دعویٰ درست قرار دیتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے چالیس ہزار لغات عرب سکھائی ہیں۔اور چونکہ لغات عرب کو محفوظ کرنے میں بہت کو تاہی کی گئی ہے اور ہم تک ان لغات کا بہت کم حصہ پہنچا ہے اس صورت حال میں حضور علیہ السلام کے دعویٰ کی تردید کرنے کا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔چوتھی بات ابن جنی کا یہ قول ہے جو اس نے اپنی کتاب المحتسب میں لکھا ہے: لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يُطْلَقَ عَلَى شَيْءٍ لَهُ وَجْةٌ فِي العَرَبِيَّةِ قَائِمٌ ۖ وَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ أَقْوَى مِنْهُ - أَنَّهُ غَلَط ، المُحْتَسِبُ فِي تَبْيِينِ وُجُوهِ شَوادِ القراءات والإيضاح عَنْهَا جلد ١ صفحة ٢٣٦) 66 یعنی عربی زبان کے کسی بھی استعمال کی اگر کوئی بھی صورت اس زبان میں کہیں موجود ہے تو اسے غلط نہیں کہا جاسکتا خواہ اس سے زیادہ مضبوط استعمالات بھی موجو د ہوں۔الاند پانچویں بات ساتویں صدی ہجری کے مشہور و معروف علامہ ابو حیان اندلسی کا قول ہے۔وہ اپنی کتاب التذييل والتکمیل میں لکھتے ہیں : 44