عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 75 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 75

پاک کلام کا بھی وارث ہے اور ہر ایک پاک کلام اُسی کی توفیق سے منہ سے نکلتا ہے۔پس اگر ایسا کلام بطور وحی نازل ہو جائے تو اس بارے میں وہی شخص شک کرے گا جس کو اسلام میں شک ہو۔۔۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کلام سے بھی کئی مرتبہ قرآن شریف کا توارد ہوا جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔قال : قال عمر: وَافَقْتُ رَبِّي فِي أَرْبَعِ يعنى یعنی چار ہا نہیں جو میرے منہ سے نکلیں وہی خدا تعالیٰ نے فرمائیں۔اگر کسی شخص کا کلام خدا کے کلام میں بطور وحی کے داخل ہو جائے تو وہ بہر حال اعجاز کا رنگ پکڑ سکتا ہے۔مثلاً یہی وحی الہی یعنی عَفَتِ الدَيارُ مَحلَّها ومَقَامُها جب لبيد رضی اللہ عنہ کے منہ سے شعر کے طور پر نکلی تو یہ معجزہ نہ تھی۔لیکن جب وحی کے طور پر ظاہر ہوئی تو اب معجزہ ہو گئی۔کیونکہ لبید ایک واقعہ گذشتہ کے حالات پیش کرتا ہے جن کا بیان کرنا انسانی قدرت کے اندر داخل ہے لیکن اب خدا تعالیٰ لبید کے کلام سے اپنی وحی کا توارد کر کے ایک واقعہ عظیمہ آئندہ کی خبر دیتا ہے جو انسانی طاقتوں سے باہر ہے پس وہی کلام جب لبید کی طرف منسوب کیا جائے تو معجزہ نہیں ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے تو بلاشبہ معجزہ ہے۔آج سے ایک سال پہلے اس بات کو کون جانتا تھا کہ ایک حصہ اس ملک کا زلزلہ شدیدہ کے سبب سے تباہ اور ویران ہو 75)