عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 74 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 74

جس کے جواب میں آپ علیہ السلام نے اس عارفانہ مضمون کو بیان فرماتے ہوئے لکھا کہ : ”اب یاد رہے کہ وحی الہی یعنی عَفَتِ الدَيارُ مَحلَّها ومَقَامُها یہ وہ کلام ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے خدا تعالیٰ نے لبید بن ربیعہ العامری کے دل میں ڈالا تھا جو اُس کے اس قصیدہ کا اول مصرعہ ہے جو سبعہ معلقہ کا چوتھا قصیدہ ہے اور لبید نے زمانہ اسلام کا پایا تھا اور مشرف باسلام ہو گیا تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم میں داخل تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے کلام کو یہ عزت دی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ ایسی ایسی تباہیاں ہوں گی جن سے ایک ملک تباہ ہو گا وہ اُسی کے مصرع کے الفاظ میں بطور وحی فرمائی گئی جو اس کے منہ سے نکلی تھی۔پس یہ تعجب سخت نادانی ہے کہ ایک کلام جو مسلمان کے منہ سے نکلا ہے وہ کیوں وحی الہی میں داخل ہوا۔کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں وہ کلام جو عبد اللہ بن ابی سرح کے منہ سے نکلا تھا یعنی فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ وہی قرآن شریف میں نازل ہوا جس کی وجہ سے عبد اللہ بن ابی سرح مرتد ہو کر مکہ کی طرف بھاگ گیا۔پس جب کہ خدا تعالیٰ کے کلام کا ایک مرتد کے کلام سے توارد ہوا تو اس سے کیوں تعجب کرنا چاہیے کہ لبید جیسے صحابی بزرگوار کے کلام سے اس کے کلام کا توارد ہو جائے۔خدا تعالیٰ جیسے ہر ایک چیز کا وارث ہے ہر ایک 74