عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 22
حاضر؟ اور اس سے مراد ہوتا ہے أَعِندَك غداء حاضر؟ اور یہ عرب میں سے ایک اچھی لغت ہے۔لغات یہاں محض ایک لفظ کے عام مشہور مفہوم سے ہٹ کر ایک اور مفہوم میں استعمال کو ایک علیحدہ لغت قرار دیا گیا ہے۔ڈالتی ہے: " لسان العرب کی یہ عبارت بھی ہمارے اس موضوع پر روشنی وطه قَالَ: وَقَوْلُ الشَّافِعِيِّ نَفْسُهُ حُجَّةٌ لِأَنَّهُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَرَبيّ النِّسانِ فَصيحُ اللَّهْجَةِ۔قَالَ: وَقَدْ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ بَعْضُ الْمُتَحَذْلِقِينَ فَخَطَّأَهُ وَقَدْ عَجلَ وَلَمْ يَتَثَبَّتْ فِيمَا قَالَ وَلَا يَجُوزُ لِلْحَضَرِيِّ أَنْ ،، يعجل إلى إنكار مَا لَا يَعْرِفُهُ مِنْ لُغَاتِ العَرَب۔“ (لِسَانُ العَرَبِ، حَرْفُ اللَّامِ، تَحْتَ كَلِمَةِ عول) یعنی طہ نے کہا کہ شافعی کا قول تو بذات خود حجت ہے کیونکہ شافعی رضی اللہ عنہ عربی اللسان اور فصیح اللہجہ ہیں۔ایک جلد باز نیم عالم نے آپ پر اعتراض کرتے ہوئے آپ کے کلام میں بغیر ثبوت اور توثیق کے غلطی نکالی حالانکہ شہر میں رہنے والے کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر ایسی لغات عرب کا انکار کر دے جسے وہ نہیں جانتا۔22