عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 73
بباعث اپنی مالکیت کے اختیار رکھتا ہے کہ دوسری کتابوں کی بعض عبارتیں اپنی جدید وحی میں داخل کرے اس پر کوئی اعتراض نہیں چنانچہ براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ہر ایک پر ظاہر ہو گا کہ اکثر قرآنی آیتیں اور بعض انجیل کی آیتیں اور بعض اشعار کسی غیر ملہم کے اس وحی میں داخل کئے گئے ہیں جو زبر دست پیشگوئیوں سے بھری ہوئی ہے جس کے منجانب اللہ ہونے پر یہ قومی شہادت ہے کہ تمام پیشگوئیاں اُس کی آج پوری ہو گئیں اور پوری ہو رہی ہیں۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۷ تا ۴۳۸) اس اقتباس میں اور دیگر کئی مقامات پر حضور علیہ السلام نے ایک نہایت عارفانہ نکتہ کی نشاندہی کی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی کا کوئی جملہ یا کلام خدا یہ کے الہام میں شامل ہو جائے تو اگر چہ کلمات تو وہی رہتے ہیں لیکن اس کلام کی عظمت خارق عادت ہو جاتی ہے اور جس کو چشم بینا عطا ہوئی ہو وہ دیکھ سکتا ہے کہ اگر چہ یہی کلام فلاں ادیب نے کہا تھا لیکن اس کی کوئی وقعت نہ تھی تاہم جب یہ فقرہ یا جملہ خدا تعالیٰ کی وحی میں شامل ہوا تو عظیم الشان پیشگوئی اور عظمت و جلال والے کلام کی حیثیت اختیار کر گیا۔آپ علیہ السلام کو زلزلہ کی نسبت دی جانے والی پیشگوئی جن الفاظ میں دی گئی وہ لبید بن ربیعہ کے شعر کا ایک مصرعہ تھا۔اس پر بہت اعتراض کیا گیا 73