عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 61
جسے آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا جائے۔نہ ہی یہ تمام لغات اور استعمالات پر نظر کر کے بنائے گئے ہیں۔بلکہ جب تمام علمائے لغت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بہت سا ادب اور لغات اور علم ضائع ہو گیا تو پھر باقی ادب اور علم کی بنا پر بننے والے قواعد بھی ناقص ہی رہیں گے۔اس سارے مضمون کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”جب تک زبان عرب میں پورا پورا توغل نہ ہو اور جاہلیت کے تمام اشعار نظر سے نہ گذر جائیں اور کتب قدیمہ مبسوطہ لغت جو محاورات عرب پر مشتمل ہیں غور سے نہ پڑھے جائیں اور وسعت علمی کا دائرہ کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک عربی محاورات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا اور نہ اُن کی صرف اور کو کا باستیفاء علم ہو سکتا ہے۔“ ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۶) اگر کسی کا علم اس سے کم ہے تو ہو سکتا ہے کہ عربی زبان کے صرف ونحو وغیرہ کے کچھ قواعد اور ادب کے کچھ محاورات اور تراکیب واستعمالات اس کی نظر سے اوجھل رہ گئے ہوں اور وہ جہالت کی بنا پر اعتراض کر بیٹھے جہاں تک آج کل کے محدود قواعد صرف ونحو کا تعلق ہے تو وہ محض بنیادی معلومات اور روز مرہ کی سطحی زبان کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔***61**