عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 36 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 36

الف یاء میں بدل جاتا ہے۔یعنی جنتان کی حالت، نصب اور جر میں جنتین ہوگی۔قرآن کریم میں رفع کی حالت کی مثال اس آیت میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمن : ٤٧)، اور نصب اور جر کی حالت میں قرآن کریم میں اس کی مثال یہ ہے: ﴿وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ (الكهف:٣٣)۔بعض قبائل جیسے بنو الحارث ابن کعب، خشم، زبید ، اور کنانہ وغیرہ کی لغات میں ان قواعد کے برخلاف رفع نصب اور جر تینوں صورتوں میں منی کی حالت تبدیل نہیں ہوتی اور ہر تینوں حالات میں الف بر قرار رہتا ہے اور یاء میں نہیں بدلتا (النحو الوافي ١٢٤/١ - ١٢٣، وجامع الدروس العربية للشيخ مصطفى الغلاييني) شنی کے بارے میں مذکورہ بالا اسلوب پر لغت عرب کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن بعض معترضین اپنی جہالت کی وجہ سے جب ایسی مثالوں کو آج کے عام معروف قواعد کے خلاف پاتے ہیں تو انہیں اپنے اعتراض کا نشانہ بناتے ہیں۔ذیل میں ان پرانی لغات اور اس قاعدہ کی کچھ مثالیں حضور علیہ السلام کے کلام سے پیش ہیں۔وو 66 *۔۔۔مِنْهَا أَنَّ الشُّهُبَ الثواقِبَ انْقَضَتْ لَهُ مَرَّتَانُ۔“ (الِاسْتِفْتاء)۔36