عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 24 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 24

بجائے عَمَّج فرمایا یعنی کاف کو جیم سے بدل دیا جو کہ یمن کی ایک قوم کی لغت ہے۔خطابی نے کہا کہ یہ بات صرف بعض راویوں نے نقل کر دی (اور اس میں کوئی حقیقت نہیں) کیونکہ نبی کریم (صلی ا ) تو صرف اعلیٰ وافصح زبان ہی بولتے تھے۔ابن اثیر نے کہا کہ (خطابی کی ) یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ نبی کریم (صلی للی ) نے بہت سی لغات عرب میں کلام فرمایا ہے ، ان میں سے آپ کا یہ قول بھی ہے کہ : لَيْسَ مِنَ امْبرِّ امْصِيامُ فِي امْسَفَر وغيره جو اصل میں: لَيْسَ مِنَ البرّ الصيام في السفر ہے۔یعنی سفر میں روزہ رکھنا اعلیٰ درجہ کی نیکی نہیں ہے۔اس جملے میں تین الفاظ میں لام کو میم سے بدل دیا گیا ہے اس لیے اس کی یہ صورت بن گئی ہے۔اور یہ لغات عرب میں سے ایک لغت ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں قرآن کریم کی مختلف قراءات اور جمع قرآن کے مضمون پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے لغاتِ عرب کے اس فرق پر بھی روشنی ڈالی ہے۔آپ کی اس تحریر کے بعض حصے ذیل میں پیش ہیں۔آپ فرماتے ہیں: بعض زبانوں کے فرق کی وجہ سے یا بعض مضامین کو نمایاں کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو سبعہ احرف پر نازل کیا ہے یعنی اس کی سات 24]