عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 16 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 16

عربی لغات کے علم کادعویٰ علاوہ ازیں حضور علیہ السلام نے عربی زبان کے بارے میں ایک اور منفرد اور عظیم الشان دعوی فرمایا ہے کہ: 66 علمُتْ أَرْبَعِيْنَ أَلْفًا مِنَ اللُّغَاتِ العَرَبِيَّةِ۔“ (مكتوب احمد ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه (۲۳۴) یعنی مجھے چالیس ہزار عربی لغات سکھائے گئے ہیں۔اس فقرہ کی تشریح اور وضاحت کی بہت ضرورت ہے۔عربی لغت کی عام معروف کتاب المنجد میں لکھا ہے کہ لغت کا لفظ ہر قوم میں معروف کلام پر بولا جاتا ہے۔اور علم اللغہ ، عربی کے علوم کی تمام اقسام پر بھی بولا جاتا ہے۔(المنجد) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قول: 66 "عُلِّمُتْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا مِنَ اللُّغَاتِ العَرَبِيَّةِ۔“ کا ترجمہ عموما چالیس ہزار مادے کیا جاتا ہے جو درست ہے۔لیکن کیا اس سے صرف یہی مراد ہے ؟ اگر اس فقرہ کو اس کے سیاق میں پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد اور بہت کچھ ہے۔اصل نص کچھ یوں ہے : إِنَّ كَمَالِي فِي النِّسَانِ الْعَرَبِيِّ، مَعَ قِلَّةِ جُهْدِي وَقُصُورٍ طَلَبِي، آيَةٌ وَاضِحَةٌ مِنْ رَبِّي لِيُظهِرَ عَلَى النَّاسِ عِلْمِي وَأَدَبِي، فَهَلْ مِنْ مُعَارِضِ 167