عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 14 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 14

محاورات عرب پر مشتمل ہیں غور سے نہ پڑھے جائیں اور وسعت علمی کا دائرہ کمال تک نہ پہنچ جائے، تب تک عربی محاورات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا اور نہ اُن کی صرف اور نحو کا باستہ یفاء علم ہو سکتا ہے۔“ (نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۶) اس پر چنانچہ اگر کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان کو سمجھنا ہے اور تحقیق کرنی ہے یا کسی کو اعتراض کرنے کا شوق ہے تو اسے ان تمام امور کا علم حاصل کرنا ہو گا ورنہ اس کا اعتراض خود اس کی جہالت پر دلالت کرے گا۔اگلے صفحات کا مطالعہ اس دعویٰ کی صداقت کا یقین دلانے کے لیے کافی ہو گا۔اگر کوئی اتنا علم حاصل کر لے گا تو اسے لغات ولہجات عرب سے واقفیت ہو جائے گی اور خود بخود اس کے اعتراضات کا جواب مل جائے گا۔لیکن اگر کسی کو لغات عرب کا دقیق علم ہی نہیں یا مختلف محاوروں اور استعمالات کا پتہ نہیں تو ایسے شخص کا اعتراض خود اس کی جہالت کی دلیل ہو گا۔عربی زبان پر ہریک پہلو سے قدرت معجزات انبیاء سے ہے کامل وسعت علمی کے حصول کے لیے جن ضروری امور کا ذکر حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے۔شاید بعض لوگ ذاتی کوشش سے ان تمام [14]>