عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 104
حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عربی زبان میں کمال عطا ہونے سے پہلے جو عربی آتی تھی وہ وہی تھی جو اس زمانہ میں مدرسوں وغیرہ میں پڑھائی جاتی تھی۔اس زمانہ میں مدارس میں صرف و نحو کی کچھ کتابیں دیوان حماسہ کا کچھ حصہ ، متنبی کے بعض قصائد، سبعه معلقات اور مقامات حریری میں سے کچھ حصے پڑھائے جاتے تھے اور آج کل بھی یہی حال ہے۔اگر انہی کتابوں کو پڑھ کر فصیح و بلیغ عربی میں کتب لکھی جاسکتی ہیں تو یہ تو اس زمانہ میں ہر مولوی نے پڑھی ہوئی تھیں۔پھر کیوں نہ اس زمانہ میں مولوی اٹھ کر مقابلے میں آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں عربی زبان میں کتب لکھنے کا چیلنج قبول کیا ؟ ایسی عربی کے بارہ میں تو حضور علیہ السلام نے خود ہی فرمایا ہے کہ مجھے قبل ازیں ہی معمولی عربی زبان آتی تھی جسے علمیت نہیں کہا جاسکتا تھا۔ملخص از نجم الهدی، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۰۷) جس عربی کا آپ نے دعویٰ کیا ہے وہ عربی زبان میں کامل وسعت علمی اور لغات عرب اور مختلف محاوروں و استعمالات اور جذور کے سکھائے جانے کا دعویٰ ہے۔اور عام فہم اچھی عربی زبان کو اس دعویٰ سے کوئی 104