عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 99 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 99

حضور علیہ السلام کی انشاء پردازی اور حریری کی تحریرات حضور علیہ السلام نے اکثر اپنی عربی کتب میں مسجع و مقفی عبارتیں لکھی ہیں جو کہ بلاغت کی ایک اعلیٰ قسم ہے لیکن اسلامی دور میں مختلف ادباء کی طرف سے یہ صنف محض قصے کہانیوں اور فضول طریق پر استعمال ہوئی۔حضور علیہ السلام کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عربی زبان میں کمال عطا فرمایا ہے۔یوں جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو شریعت محمدیہ کے مجدد اعظم کے طور پر مبعوث فرمایا وہاں اس الہامی زبان بلکہ ام الالسنہ کی بلاغت کی بعض اعلیٰ اصناف کی تجدید بھی آپ کے ذریعہ سے ہوئی۔چنانچہ آپ نے نہ صرف عربوں کے بھولے بسرے الفاظ اور مفردات کو اپنی کتاب سیرۃ الابدال وغیرہ میں درج کر کے ان کو پھر زندہ کر دیا بلکہ عربوں کی بعض متروک لغات اور اسالیب کو بھی اپنی تحریر میں استعمال کر کے انہیں دوبارہ شناخت عطا کی۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنی تحریرات میں اس بات کے واضح اشارے چھوڑے ہیں کہ کسی ایک انسان کے لیے اپنی ذاتی جد و جہد اور کوشش سے ان تمام امور کا سیکھنا اور پھر انہیں سیاق عبارت میں بر محل استعمال کرنا بغیر خدائی عنایت کے ممکن نہیں ہے۔اس بارے میں حضور علیہ السلام کی یہ تحریر ملاحظہ ہو۔فرمایا: 99