اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 2
2 بلکہ کم و بیش اسال (وسط ۱۹۵۲ء تا دسمبر ۱۹۶۳ء) آپ جیسی برگزیدہ شخصیت کے مقدس قدموں میں بیٹھنے ، فیضیاب ہونے اور قریب سے آپ کے خدا نما چہرہ کو دیکھنے کے بہت سے مواقع میسر آئے جو نور ربانی کا تجلی گاہ اور ع ملک کو بھی جو بناتا تھا اپنا دیوانہ خاکسار کے ذاتی مشاہدات اور تجربات کا خلاصہ یہ ہے کہ الہی نوشتوں کے مطابق سیدنا مصلح موعود اخلاق و شمائل کے اعتبار سے حضرت مسیح موعود کے حسن و احسان میں نظیر تھے۔(ازالہ اوہام ) اور تاجدار خلافت کی رو سے ”فضل عمر ( سبز اشتہار ) جیسا کہ مندرجہ ذیل چند چشم دید وقائع و احوال سے عیاں ہوگا۔اول اپریل ۱۹۴۱ء میں حضرت مصلح موعود کی معرکہ آراء تقریر کی پہلی جلد دفتر تحریک جدید نے شائع کی۔چند ماہ بعد موسمی تعطیلات کے دوران قادیان سے اپنے آبائی وطن پنڈی بھٹیاں میں آیا تو اس کا ایک نسخہ تحفہ کے طور پر ساتھ لے گیا۔پرائمری سکول پنڈی بھٹیاں میں ہمارے ہیڈ ماسٹر ایک شریف النفس بزرگ غالباً جناب قادر بخش صاحب تھے جو احراری پراپیگنڈا سے بہت متاثر تھے۔یہ کتاب میں نے انہیں بھی مطالعہ کے لئے پیش کی۔وہ اگلے ہی دن ہمارے گھر تشریف لائے اور کتاب واپس کر دی۔میں نے حیرت زدہ ہو کر عرض کیا کہ اتنی جلدی آپ نے مطالعہ فرما لی؟ فرمانے لگے اب تک مجھے اس کے کچھ ابتدائی حصہ کے پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے مگر میں نے محسوس کیا کہ اس میں ایسی کشش ہے کہ مجھے ” مرزائی بنا کر چھوڑے گی۔اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ یہ حادثہ رونما ہونے سے قبل میں کتاب ہی کو واپس کر آؤں۔پھر کہا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر چہ آپ لوگ کافر ہیں مگر قرآن آپ لوگوں کے خلیفہ ہی کو آتا ہے۔اگر چہ الفاظ بعینہ یہ نہیں تھے مگر مفہوم قطعی طور پر یہی تھا۔ووم حضرت مصلح موعود نے آخری پارے کا درس جولائی ۱۹۴۴ء میں شروع فرمایا اور ابتداء اس کی ڈلہوزی میں فرمائی۔مگر سورۃ الغاشیہ اور سورۃ الفجر کا درس بیت مبارک میں ارشاد فرمایا جس میں