اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 31 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 31

28 آتی ہمارے اتنے موٹے مولوی ہیں ان کو ایک ایک حوالہ ڈھونڈنے کے لئے کئی کئی دن لگ جاتے ہیں لیکن ان کا پتلا د بلا مولوی ہے اور منٹ میں حوالے ہی حوالے نکال کر پیش کر دیتا ہے۔“ (الفضل ربوہ 11 جون 1983 صفحہ 1 کالم 1) یکم جنوری 1979 ء سے آپ کو مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی زمام سیادت سونپی گئی جس نے مجلس میں زندگی کی زبر دست روح پھونک دی اور ملک بھر میں دعوت الی اللہ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا آپ ہی کی نظر کرم سے مجھے پہلی بار بذریعہ ہوائی جہاز کراچی میں بطور نمائندہ مرکز جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔قصہ یہ ہوا کہ مجلس کراچی نے اپنے سالانہ اجتماع کے لئے مرکز سے ایک نمائندہ بھیجوانے کی درخواست کی کسی نے آپ کو میری نسبت بتایا کہ اس نے سارے ملک کے دورے کئے میں مرا بھی کراچی نہیں گیا اس پر آپ نے فرمایا پھر اس کو بھجوانا چاہئے چنانچہ آپ نے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے حضور سفر کراچی کے لئے بغرض منظوری جو درخواست سپرد قلم فرمائی اس میں خاص طور پر یہ وجہ لکھ کر ہی سفارش کی۔خدا کے محبوب خلیفہ راشد اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی دعاؤں اور قوت قدسیہ کی بدولت کراچی کا میرا یہ سفر بھی ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔فالحمد للہ کم نومبر 1981 کا واقعہ ہے کہ میں بہت اعلی میں انصار اللہ مرکز یہ کے پیج پر بیٹھانے مقدس و محبوب آقا نافله موعود حضرت خلیفة المسح الثالث کے لئے سرتاپا انتظار تھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضور تشریف لا رہے ہیں اور پیچھے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب آپ کی جوتیاں اٹھائے ہوئے کھڑے ہیں۔جب 10 جون 1982ء کو اللہ جل شانہ نے آپ کو عرش سے خلعت خلافت سے نوازا اس وقت یہ نکتہ کھلا کہ منصب خلافت کے فی الواقع آپ ہی مستحق تھے کیونکہ پوری جماعت میں خلیفہ راشد سے عشق و فدائیت میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔اگر حضرت مولانا نورالدین نے خلافت جوتیوں میں بیٹھ کر حاصل کی تو بلا شبہ آپ نے بھی خلیفہ وقت کی جوتیوں سے خلافت کا یہ عالی مقام پایا۔وذالك فضل الله يوتيه من يشاء- حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے اپنے اکیس سالہ زریں عہد خلافت میں اپنے اس نالائق