اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 12 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 12

11 کی روشنی میں حضور انور کی خدمت میں لکھا کہ ربوہ کے چوتھے مرکز کے ذریعہ تین کو چار کرنے کی نئی واقعاتی تعبیر سامنے آگئی ہے۔حضور کی طرف سے مجھے کارڈ پہنچا کہ تمہاری یہ توجیہہ بھی درست ہے جس کے بعد خاکسار نے ” الرحمت“ لاہور میں ” مقام ابراہیم کی تجلیات کے زیر عنوان دو قسطوں میں مضمون لکھا اور یہ توجیہہ پہلی بار منظر عام پر آئی۔-:5 حضرت مصلح موعود کا مری سے ارشاد موصول ہوا کہ کشمیر کمیٹی کا قدیم ریکارڈ ایک ساتھی کو لے کر یہاں لے آؤ۔نیز ہدایت فرمائی کہ یہ بیش قیمت چیز ہے۔اس کی حفاظت کے لئے دونوں میں سے ایک کو وقفہ وقفہ کے بعد جاگتا رہنا چاہیے۔اس حکم کی تعمیل میں خاکسار اور مولانا منیر الدین احمد صاحب بی اے واقف زندگی ( حال جرمنی ) مری پہنچے اور ایک ماہ مقیم رہ کر اسے مرتب بھی کیا اور اس کے خلاصے بھی تیار کئے جن سے اس دور کی تاریخ احمدیت مرتب کرنے میں بھاری مدد ملی جسے بعض بزرگ کشمیری اکابر نے بھی خوب سراہا۔بلکہ راولپنڈی کے مشہور کشمیری تر جمان انصاف کے مدیر جناب عبد العزیز نے اپنے اخبار میں اس کو خراج تحسین ادا کرتے ہوے زبر دست آرنیکل زیب قرطاس کیا۔قیام مری کا ہی واقعہ ہے کہ حضرت مصلح موعود نے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب کو مولوی ظفر علی خان صاحب مدیر زمیندار کے علاج کے لئے بھیجوایا جنہوں نے علاوہ ادویہ مہیا کرنے کے بعض دوسرے ذرائع سے بھی ان کی خدمت کی۔موصوف ان دنوں فالج زدہ تھے اور مری کے پوسٹ آفس کے قریب عمارت کے کھلے احاطہ میں کرسی پر سر جھکائے ہوئے بیٹھے رہتے تھے۔-:6 میرے دادا پوری عمر احمدیت کے شدید معاندر ہے۔ان کے غیظ و غضب کا یہ عالم تھا کہ وہ ہمارے گھر آکر میرے والد صاحب کو بھی پیٹ جاتے تھے۔میرے چھوٹے چچا میاں عبد العظیم صاحب مرحوم کو انہوں نے ۱۹۲۹ء میں احمدیت کی پاداش میں برہنہ کر کے لہولہان کر دیا جس پر ہجرت کر کے پہلے سید والا پھر لاہور دہلی دروازہ میں قیام کیا اور پھر مستقل طور پر قادیان میں بود و باش اختیار کر لی۔