اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 3
3 عاجز کو بھی شرکت کی سعادت نصیب ہوئی اور جیسا کہ حضور نے تفسیر سورۃ الفجر کے تعارفی نوٹ میں بھی ذکر فرمایا ہے ، حضور نے کے ارجنوری ۱۹۴۵ء کو عصر کی نماز کے آخر میں سجدہ سے سر اٹھایا ہی تھا کہ سورة الفجر کا مشکل مضمون جس کے بارے میں آپ کئی دن سے مضطرب تھے اللہ تعالیٰ نے ایک آن میں آپ پر حل کر دیا۔خود فرماتے ہیں:۔" پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ سجدہ کے وقت خصوصا نماز کے آخری سجدہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے بعض آیات کو مجھے پرحل کر دیا مگر اس دفعہ بہت ہی زبر دست تقسیم تھی کیونکہ وہ ایک نہایت مشکل اور وسیع مضمون پر حاوی تھی۔چنانچہ میں نے عصر کی نماز کا سلام پھیرا تو بے تحاشہ میری زبان سے الحمد للہ کے الفاظ نکل گئے۔“ الفاظ جو تصرف الہی سے جاری ہوئے جملہ سامعین کی طرح میں نے بھی سنے اور جب حضور کی زبان مبارک سے سورۃ فجر کی تفسیر سنی تو روح وجد میں آگئی اور دل و دماغ معطر ہو گئے۔اس وجدانی کیفیت کا نشہ میں اب تک محسوس کرتا ہوں۔سوم دعوت الی اللہ کا بے پناہ جوش اور ولولہ آپ کو براہ راست اپنے مقدس باپ سے ورثہ میں ملا تھا اور کوئی انفرادی موقع بھی آپ ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔۱۹۴۷ء کے آغاز میں خاکسار جامعہ احمدیہ درجہ ثالثہ کا طالبعلم تھا۔حضرت مصلح موعود نے ہماری کلاس کو قادیان کے ماحول میں واقع گاؤں گل منبج میں بغرض دعوت و تربیت بھیجا اور انگریزی کے استاد حضرت چوہدری علی محمد صاحب بی اے بی ٹی ہمارے نگران مقرر ہوئے۔وفد میں مکرم چوہدری سردار احمد صاحب بزمی ( حال مقیم لندن)، چوہدری عبدالمالک صاحب ( مرحوم مربی انچارج انڈونیشیا ) ، مولانا عبداللطیف صاحب پریمی ( مربی افریقہ ) اور مولانا عبد القدیر صاحب ( مربی افریقہ حال کینیڈا ) اور خاکسار شامل تھے۔ہم لوگ قادیان دار الامان سے قاعدہ میسر نا القرآن کی کئی کا پیاں ساتھ لے گئے۔ہمیں ارشاد تھا کہ کسی فرد پر بوجھ نہیں ڈالنا، خود ہی کھانا پکاتا ہے۔یہ وقف عارضی حضور کی خصوصی توجہ کی بدولت بہت