اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 4 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 4

4 با برکت ثابت ہوئی۔خود ہماری تربیت ہوئی۔کئی احمدی و غیر احمدی بچوں نے قاعدہ پڑھا اور بعض سعید روحیں بھی داخل احمدیت ہوئیں۔یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ہم پانچوں کو سات برس تک مدرسہ احمدیہ میں صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب کے ہم مکتب رہنے کا شرف حاصل رہا۔اسی طرح مولا نا محمد زہدی صاحب فضلی مرحوم ( مربی ملائیشیا ) نے ہمارے ساتھ ۱۹۴۶ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا جس کے بعد وہ واپس اپنے وطن تشریف لے گئے۔چہارم: ۱۹۴۸ء میں حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر خاکسار بھی دوسرے واقف زندگی ساتھیوں سمیت فرقان بٹالین کے رضا کاروں میں شامل ہوا۔بربط میں دشمن کی گولہ باری کے نتیجہ میں میری دائیں آنکھ کا حسّاس پردہ پھٹ گیا۔یہ بیماری میڈیکل کی اصطلاح میں DETACHMENT OF RETINA کہلاتی ہے۔راولپنڈی کے۔C۔M۔H نے علاج سے معذرت کی اور جواب دے دیا جس پر مجھے حضرت مصلح موعود کی اجازت سے میو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔سرائے عالمگیر کیمپ میں میرے روابط جناب پیام شاہجہانپوری سے قائم ہو چکے تھے۔وہی دیکھ بھال کے لئے تشریف لاتے رہے۔ان دنوں ڈاکٹر رمضان علی صاحب (۱۹۰۰ء۔۱۹۸۸ء ) جیسے خلیق و ہمدرد خلائق ہسپتال میں امراض چشم کے معالج تھے۔حضرت مصلح موعود سے بھی ان کی خط و کتابت تھی اور وہ حضور سے عقیدت بھی رکھتے تھے۔جب انہیں پتہ چلا کہ یہ فرقان بٹالین کا رضا کا ر ہے تو وہ بہت محبت سے پیش آئے۔مگر ساتھ ہی واضح کیا کہ یہ بیماری عام طور پر یا تو مغرب کے سائنسدانوں کو ہوتی ہے یا جنگوں کے دہما کوں سے لاحق ہوتی ہے۔پاکستان ایک نیا ملک ہے، یہاں اس کے آپریشن کے مکمل آلات دستیاب نہیں۔خود میں نے اپنے ایک عزیز کا آپریشن کیا جو نا کام رہا اور دوسری آنکھ بھی نکالنی پڑی۔میں ربوہ سے روانگی سے قبل حضرت مصلح موعود کی خدمت میں درخواست دعا تحریر کر کے آیا تھا اس لئے میں خدا پر توکل کر کے داخل ہسپتال ہو گیا اور ساتھ ہی محترم پیام صاحب نے میرے والد حافظ محمد عبد اللہ صاحب کو بھی تار دے کر بلوالیا۔