اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 29
26 وشرب کے سارے اخراجات کئے پشاور میں خدام الاحمدیہ کا اجتماع تھا جس کی مجلس سوال و جواب میں حضور نے اپنے ساتھ اس ناچیز کو بٹھا لیا اس طرح اس مبارک مجلس میں مجھے بھی کچھ عرض کرنے کی توفیق مل گئی اجتماع ختم ہوا تو مجھے کو ہاٹ کے دورہ کا حکم دیا جوخدا کے فضل سے بہت کامیاب رہا۔1974ء میں شیر خدا سید نا وامامنا حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے پاکستان اسمبلی کی رہبر کمیٹی سے خطاب کر کے ملک کے اعلیٰ ترین ادارہ بلکہ پورے ملک پر اتمام حجت کی۔اس تاریخی موقعہ پر میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے مقدس اور خدائی اخلاق و شمائل کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا اور آپ کو سرتا پانور پایا اور نورالدین وقت بھی جن کی نسبت حضرت اقدس مسیح موعود نے درج ذیل الفاظ میں اظہار خوشنودی فرمایا :- ”میرے ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتے ہیں جیسے نبض کی حرکت نفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے۔ترجمہ آئینہ کمالات اسلام کی اسمبلی کے لئے محضر نامہ" حضرت خلیفہ اسیح کی رہنمائی میں اکثر و بیشتر حضرت صاحبزادہ صاحب اور خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب کی سربراہی میں دو تین روز کے اندر مرتب ہوا جسے حضرت صاحبزادہ صاحب نے وقف جدید میں کاتبوں کے ذریعہ پوری پوری رات جاگ کر لکھوایا اور طبع کرایا طباعت کے معابعد محترم محمد شفیق صاحب قیصر سابق مربی افریقہ کے ذریعہ اسمبلی میں داخل کرا دیا گیا ان دنوں حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ تھے۔اسمبلی اور سینٹ کے ممبروں میں تقسیم کے بعد بقیہ سب کا پہیاں آخر تک آپ ہی کی تحویل میں رہیں۔آپ کی ہدایت پر اسمبلی کی کارروائی کے لئے خاکسار نے ضروری حوالہ جات کی متعدد فائلیں بنائیں کیونکہ حوالے اور اصل کتابیں مہیا کر کے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کی خدمت عاجز کو عطا ہوئی۔فالحمد للہ علی احسانہ ایک بار آپ کی خصوصی ہدایت پر خاکسار کو چوہدری رحمت علی صاحب آف سٹروعه ( دار البرکات ربوہ) کی کار میں راتوں رات مردان جانا پڑا کیونکہ جو شیعہ مسلک کی کتابیں مطلوب تھیں وہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی مرحوم سابق امیر سرحد کے ذاتی کتب خانہ میں موجود تھیں۔